خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد 11 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء تو اللہ تعالیٰ کی عطائیں تو ہر ایک کے لئے ہیں ہی لیکن جو اُس کے دین کے لئے خرچ کرتے ہیں ان پر تو بے شمار عطائیں ہوتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ بھی ادھار نہیں رکھتا، بشرطیکہ نیک نیتی سے اُس کی رضا کے حصول کی خاطر کوئی قربانی کی جائے۔اس وقت میں چند واقعات پیش کروں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں ، ہر ملک میں ، غریبوں میں بھی اور امیروں میں بھی احمدیوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص جذ بہ قربانی کا پیدا فرما دیا ہے اور قربانیوں کے بعد پھر ہر ایک کو اُس کے ایمان اور یقین میں بڑھانے کیلئے انہیں اللہ تعالیٰ نوازتا بھی ہے۔نئی قائم ہونے والی ایک جماعت کی قربانی کا ذکر سنیں جو افریقہ کے دور دراز علاقے میں ہے اور پھر اس سے صرف مالی قربانی کا پتہ نہیں چلتا بلکہ خلافت سے تعلق کا بھی پتا چلتا ہے۔نائیجر افریقہ کے دور دراز علاقے میں ایک ملک ہے، وہاں کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر جو مبلغین کی میٹنگ تھی ، اس میں میں نے افریقہ کے مبلغین کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ افریقہ میں چندے میں شامل ہونے والوں کی تعداد میں ابھی کافی گنجائش ہے اس میں اضافہ کریں۔تو اس حوالے سے کہتے ہیں کہ جب انہوں نے وہاں جاکے بات کی اور اپنے علاقے ”برنی کونی“ کی جماعت کو یہ پیغام دیا کہ خلیفہ وقت نے یہ کہا ہے تو انہوں نے فوراً آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی قربانی کو بڑھایا۔اُن کو جب یہ کہا گیا کہ جو پہلے شامل نہیں تھے وہ بھی شامل ہوں تو اُس کا فوراً اثر ہوا۔وہاں زمیندار جماعتیں ہیں، دیہاتی جماعتیں ہیں ، اُن کے پاس نقد رقم تو نہیں ہوتی لیکن جنس کی صورت میں دیتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں کہ برنی کونی ریجن کی جماعتوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے، جہاں گزشتہ سال جنس کی صورت میں سولہ بوریاں دی تھیں، وہاں بالکل چھوٹے سے ایک گاؤں نے جہاں سو پچاس کی آبادی ہوگی ، باون بوریاں انہوں نے دیں اور اس کے علاوہ انہوں نے پچھلے سال سے دو گنا چندہ نقد بھی پیش کیا۔پھرا میر صاحب نائیجر لکھتے ہیں کہ جماعت گڑاں براوو (Gidan Barawoo) گاؤں کی طرف سے پیغام آیا کہ چندہ کے اناج کی بوریاں آکر لے جائیں۔کہتے ہیں ہم لوگ گاڑی میں یہ لے کر واپس آرہے تھے تو اس وقت رات کے دس بج رہے تھے۔ہم ایک احمدی گاؤں دیگاوا (Dabgawa) سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ خدام راستہ میں ہمارے انتظار میں کھڑے ہیں۔رات کے دس بج رہے ہیں اور ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ہم نے گاڑی رو کی تو انہوں نے بتایا کہ ہم صدر صاحبہ لجنہ کے حکم پر