خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد 11 111 خطبه جمعه فرموده مورخه 15 فروری 2013ء بہر حال یہ کہتے ہیں کہ میں جلسوں میں بھی شامل ہوا۔1930 ء یا اس سے پہلے ، ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑی حویلی سمندر کے کنارے پر ہے اور پانی کی لہریں زور شور سے اس کے ساتھ ٹکراتی ہیں اور بہت شور ہوتا ہے۔اُس حویلی کے اندر سے مولوی محمد علی نکلے تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُن کے چہرے کا نصف حصہ سفید اور نصف سیاہ تھا۔معاً میرے دل میں خیال ہوا کہ ان کی پہلی زندگی یعنی پہلی حالت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانے کی اچھی تھی اور اُس کے بعد کی سیاہ ہو گئی۔اُس کے بعد جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ہدایت کی طرف لاتا ہے تو اُس کے اسباب بھی ایسے پیدا کر دیتا ہے جو اس کی ہدایت کا موجب ہو جاتے ہیں۔میں 1932 ء میں اپنے گھر پر تھا۔میرے اہلِ خانہ سرگودھا میں تھے کہ ڈاکٹر محمد یوسف صاحب امریکہ والوں کا، جو میرے رشتہ دار ہیں، خط پہنچا کہ آپ بہت جلد قادیان آ جاویں۔کیونکہ میں نے امریکہ جانا ہے اور مکان کا بنوانا آپ کے ذمہ ہے۔( قادیان میں جو مکان بنوانا تھا، اُس کی نگرانی آپ کریں) کہتے ہیں اس پر میں اپریل 1932ء میں قادیان آ گیا اور مکان تیار کرایا۔میرے اہلِ خانہ بھی یہاں آگئے۔یہاں آ کر دیکھا تو عجیب ہی کیفیت نظر آئی۔نیا آسمان اور نئی دنیا نظر آنے لگی۔نمازوں میں شامل ہونا ، حضرت صاحب کے خطبات کا سننا اور تقریروں کا سننا ، اس نے ایسا اثر ڈالا کہ جو مغالطے دیئے گئے تھے وہ آہستہ آہستہ دور ہونے لگے۔اتفاق سے میں قادیان سے نادون گیا تو مہاشہ محمد عمر تبلیغ کے واسطے وہاں آئے ہوئے تھے۔اثنائے گفتگو مجھے کہنے لگے کہ آپ بیعت کا فارم بھر دیں۔میں نے بیعت کا فارم بھر دیا اور دل کی سب کدورتیں دور ہو گئیں اور خداوند تعالیٰ نے اپنے فضل کے سائے میں لے لیا اور مجھ جیسے عاصی کو دوبارہ زندگی بخشی ورنہ میرے ساتھی ابھی تک نخوت کی ذلت میں پھنسے ہوئے ہیں۔دل تو اُن کا اندر سے محسوس کرتا ہے کہ ہم نے بڑی غلطی کی لیکن ظاہراً امارت اُن کے حق کے قبول کرنے میں مانع ہے اور یہی اُن کا جہنم ہے جس میں وہ ہر وقت پڑے جلتے ہیں۔دل تو اُن کا چاہتا ہے کہ مان لیں لیکن ناک کے کٹنے کا خوف ہے۔خداوند تعالیٰ ہدایت دے۔میرے حال پر تو اللہ تعالیٰ نے خاص فضل کیا۔قریباً دو سال کا عرصہ ہوا کہ ایک رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ آسمان سے ایک سنہری صندوق منقش ہوئے بہت ہی چمکدار اور روشن اترا اور معلق ہوا میں آ کر ٹھہر گیا۔اتنے میں ایک تاج منقش سنہری اترا اور وہ صندوق پر ٹھہرنا چاہتا ہی تھا کہ میں نے پرواز کر کے اُس کو اپنے دونوں بازوؤں سے تھام لیا۔اس کا تھا منا تھا کہ تمام دنیا کے کناروں سے یک زبان آواز سنائی دی کہ