خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد 11 105 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء بزرگوں کی زیارت خواب کے اندر نصیب فرما۔جب میں سو گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک میدان میں بہت سے بزرگان دین جمع ہیں اور سب کے سب دعا میں مشغول ہیں جن میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی بھی ہیں اور آ رآپ کے اور میرے آگے چمبیلی کے پھول ہیں جن کی ہم خوشبو لے رہے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مجھے فرمایا کہ پھولوں کو سونگھتے وقت ناک سے نہیں لگانا چاہئے بلکہ ذرا ناک سے فاصلے پر رکھنے چاہئیں تا کہ پھولوں کی خوشبو نفاست سے آئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 6 صفحہ 143 - 144 از روایات حضرت امیر محمد خان صاحب) حضرت امیر محمد خان صاحب ہی کہتے ہیں کہ دسمبر 1913ء کی رات میں نے خواب میں حضرت میاں صاحب اولوالعزم کے ہمراہ ایسے گھروں کا نظارہ دیکھا جن کے نیچے سمندر گھس آیا ہے اور وہ بے خبری میں تباہی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔جن کی تعبیر منکرین خلافت کے انکار خلافت سے پوری ہوئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 6 صفحہ 149 از روایات حضرت امیر محمد خان صاحب) پھر کہتے ہیں کہ 13 ، 14 فروری 1930ء کی درمیانی رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک زینہ پر چڑھ رہا ہوں اور میرے پیچھے حضرت اُم المومنین صاحبہ بھی چڑھ رہی ہیں۔جب میں نے حضور کی طرف دیکھا تو میں بوجہ آپ کے ادب کے گھبرا گیا۔( یعنی حضرت ام المومنین کی طرف دیکھا تو گھبرا گیا۔مگر حضرت ام المومنین صاحبہ نے از راہ شفقت فرمایا کہ ڈرومت۔تم بھی ہمارے بچے ہی ہو۔پھر میں ایک زینہ سے ہو کر ایک اور مکان کے اندر چلا گیا اور وہ مکان بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی مکان ہے۔کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں مجھے ملازمت ملتی ہے مگر تنخواہ میری سب انسپکٹری کی تنخواہ سے بہت کم ہے جسے میں نے مشورہ کے بعد قبول کر لیا۔پر مجھے ایک شخص پوچھتا ہے کہ تم نے پہلی ملازمت کس لئے چھوڑ دی۔میں نے کہا کہ فلاں شخص نے میرے ساتھ دھو کہ کیا۔پھر ایک اور شخص یا وہی شخص مجھے پوچھتا ہے کہ تم دیر سے کیوں آئے؟ میں نے کہا کہ میرے جو مہمان آئے ہوئے تھے وہ بیمار تھے اُن کی تیمار داری کی وجہ سے دیر ہوگئی۔جس پر حضرت ام المومنین صاحبہ نے فرمایا کہ تیمار داری کی وجہ سے دیر ہو ہی جایا کرتی ہے۔پھر اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ چند آدمی حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے مکان میں گھس آئے ہیں اور وہ شورش کرنا چاہتے ہیں۔میرے ہاتھ میں تلوار ہے۔میں نے تلوار سے سب کو بھگا دیا۔پھر جب میں واپس اندر آیا تو دیکھا کہ ایک شخص پھر تلوار لئے اندر گھس آیا ہے۔میں نے اپنی تلوار سے اُس کی تلوار کاٹ دی اور وہ عاجز سا ہو گیا۔