خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 102

خطبات مسرور جلد 11 102 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ آپ نے ان کو شیطان کا گھر کیوں کہا ہے ؟ اس کے جواب میں حضرت اولوالعزم نے فرمایا کہ انہیں میں نے شیطان کا گھر نہیں کہا، انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی شیطان کا گھر ہی کہا ہے۔اس کے بعد میں نے حکیم محمد عمر صاحب کو بڑی بلند آواز کے ساتھ ( یہ خواب کا ذکر کر رہے ہیں ، خواب میں ہی ) حضرت صاحب کی پیشگوئیاں لوگوں کو سناتے دیکھا جو کہ پوری ہو چکی تھیں اور جن کو آئندہ کی پیشگوئی کی صداقت میں بطور دلیل کے پیش کر رہے تھے۔جن کے سننے سے سامعین کے دلوں میں ایک سکینت اور سرور پیدا ہورہا تھا۔کہتے ہیں سوالحمد للہ! یہ خواب تقر ر خلافت ثانیہ کے وقت ہو بہو پورا ہوا اور مولوی محمد علی صاحب مع اپنے رفقاء کے، جنہوں نے خلافت کے خلاف شور برپا کر رکھا تھا، جماعت سے الگ ہو گئے بلکہ قادیان سے بھی نکل گئے۔جن کے نکلنے کے بعد احمدیت خلافت ثانیہ کے ذریعہ چار دانگ عالم میں پھیل گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 6 صفحہ 147 - 148 از روایات حضرت امیر محمد خان صاحب) حضرت امیر محمد خان صاحب ہی بیان فرماتے ہیں کہ 24 فروری 1912ء بدھ وار کی رات خواب کے اندر مجھے حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیشگوئی فرمائی تھی۔( یہ جس خواب کا ذکر کر رہے ہیں، یہ حضرت خلیفہ اول کی زندگی کی خواب ہے ) کہ جب مبارک موعود آئے گا تو تخت نشین کیا جائے گا۔اس سے مراد ہم تو جارج پنجم کی تخت نشینی لیتے تھے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ مبارک موعود سے مراد صاحبزادہ میاں محمود احمد ہیں اور تخت نشینی سے مراد آپ کی خلافت ہے۔پھر خیال ہوا کہ آپ کی خلافت کے وقت تو دنیا میں کوئی زبر دست زمینی یا آسمانی نشان ظاہر ہونا چاہئے تھے۔تب تفہیم ہوئی کہ نشان بھی پورا ہو جائے گا۔صاحبزادہ صاحب کی خلافت کے ذکر سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چہرہ بشاش ہورہا تھا اور میں بھی خوش ہور ہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں تو مبارک موعود کا ظہور کسی دُور کے زمانے میں سمجھتا تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ یہ خوش وقت بھی میری زندگی میں ہی مجھے نصیب ہوا۔پھر خواب کے اندر خیال پیدا ہوا کہ خلیفہ تو حضرت مولوی صاحب ہیں، میاں صاحب کس طرح خلیفہ ہو گئے۔تب تفہیم ہوئی کہ خلیفہ اول نے تو بہت بوڑھے ہونا نہیں کیونکہ خدا کے پیارے ارزل عمر کو نہیں پہنچتے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 6 صفحہ 142 - 143 از روایات حضرت امیر محمد خان صاحب) بعض لوگ موعود کا سوال اُٹھا دیتے ہیں تو ان کو اُس زمانے میں بھی خواب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا۔