خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 4
خطبات مسرور جلد 11 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء استغفار اور دعا کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے جماعت پر جوفضل ہیں، جو ہر آن تائید و نصرت کے نظارے ہیں وہ اُس وقت تک ہم دیکھتے رہیں گے جب تک ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔مجھے تو کبھی یہ فکر پیدا نہیں ہوئی کہ فلاں کام کی تکمیل کس طرح ہونی ہے؟ جو بھی منصوبہ (تیار) کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ خود ہی انتظام کر دیتا ہے۔سی بھی ایک حیرت انگیز مضمون ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ احمدیوں کے دل میں ڈالتا ہے اور کس طرح وہ بڑھ چڑھ کر قربانی میں حصہ لیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی خاطر مالی قربانی دینے کا وقت آتا ہے تو احمدی اپنا پیٹ کاٹ کر بھی قربانیاں دیتے ہیں۔بھوکے رہنا گوارا کر لیتے ہیں لیکن یہ گوارا نہیں کرتے کہ اپنے چندے دینے کا انکار کریں یا کسی طرح کمی کریں۔یہی انبیاء کی جماعتوں کی نشانی ہے کہ وہ ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہتے ہیں اور کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا۔جماعت کا احسان سمجھتے ہیں ،خدا تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہیں کہ اُن سے چندہ وصول کر لیا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ جب چندہ لینے پر پابندی لگائی جائے تو اکثر بے چین ہو کر اس سزا کو واپس لینے کی درخواست کرتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم سے چندہ وصول کرلیا جائے تو جماعت کا ہم پر احسان ہوگا۔نئے شامل ہونے والے جو جماعتی نظام کو سمجھ لیتے ہیں،جن کی تربیت اچھے طور پر ہوتی ہے، وہ بھی مالی قربانی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بعض دفعہ جماعتوں نے طوعی چندوں کے جو ٹارگٹ مقرر کئے ہوتے ہیں، اُن میں اگر کہیں کمی ہو جائے تو بعض صاحب حیثیت لوگ خود ہی کہتے ہیں کہ ہم کمی پوری کر دیں گے۔اُن کے اندر سے آواز اُٹھ رہی ہوتی ہے۔اُن کو کوئی مجبوری نہیں ہوتی ، اُن کوز ور نہیں دیا جارہا ہوتا، بلکہ اندر کی ایک آواز ہوتی ہے کہ اس کمی کو پورا کرنا ہے۔یہ سب کیوں ہے؟ اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کی آواز آ رہی ہوتی ہے کہ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : 263) اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔انہیں اُخروی زندگی پر ایمان ، یقین اور اُس کی فکر ہوتی ہے جس کے لئے وہ قربانی کرتے ہیں۔پس جب اُن کے ایسے عمل ہوتے ہیں تو پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کی بشارتیں مل رہی ہوتی ہیں۔وہ اپنا شاندار مستقبل بنارہے ہوتے ہیں جس کی انتہا اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ صرف مرنے کے بعد کی مستقبل کی بات نہیں کرتا بلکہ اس دنیا میں بھی ادھار نہیں رکھتا اور یہاں بھی بڑے بڑے اجر سے نوازتا ہے۔ایک حدیث قدسی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم ! خرچ کرتارہ، میں تجھے عطا کروں گا۔