خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 505

خطبات مسرور جلد 11 505 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء کراچی شفٹ ہو گئے تھے۔شہادت کے وقت شہید مرحوم کی عمر 55 سال تھی۔آپ نے انٹر تک تعلیم حاصل کی۔اُس کے بعد مکینیکل انجینئرنگ میں ایسوسی ایٹنگ انجینئر کا ڈپلومہ حاصل کیا۔پھر کراچی یونیورسٹی سے ڈی ایچ ایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔نیشنل آئل ریفائنری میں کم و بیش تیس سال ملازمت کی اور اب تین سال کے بعد ریٹائر ہونے والے تھے۔شہید مرحوم شہادت کے وقت بطور سیکرٹری دعوت الی اللہ حلقہ لانڈھی خدمات کی توفیق پارہے تھے۔اس سے پہلے بھی مختلف عہدوں پر یہ خدمات انجام دیتے رہے۔مرحوم انتہائی نفیس طبیعت کے مالک تھے۔بڑے ہنس مکھ صلح جو ہملنسار۔آپ کا حلقہ احباب انتہائی وسیع تھا۔اپنے علاقے میں ایک معزز شخصیت تھے۔آپ کی شہادت کے بعد محلے داروں کی ایک کثیر تعداد تعزیت کی غرض سے آپ کے گھر میں جمع ہوگئی۔عزیز رشتہ داروں کے ساتھ بھی بہت اچھا تعلق تھا۔اگر کوئی زیادتی بھی کر جاتا تو درگزر کرتے اور خود آگے بڑھ کر صلح کا ہاتھ بڑھاتے۔آپ ایک کامیاب ہومیو پیتھی ڈاکٹر بھی تھے۔مستقل مریضوں کی تعداد بھی بہت وسیع تھی۔کئی مرتبہ یہ ہوا کہ دفتر سے تھکے ہوئے آئے ہیں اور گھر آتے ہی مریض آگئے تو فوراً اُن کا علاج شروع کر دیا۔نمازوں کے پابند اور با قاعدگی کے ساتھ تہجد کا التزام بھی کیا کرتے تھے۔اور بے انتہا مصروفیت کے باوجود حلقے میں دورہ جات کے لئے حتی الوسع اپنی بیوی کی ، جوصدر لجنہ ہے، معاونت کرتے۔اُن کے ساتھ دورہ کیا کرتے تھے۔انتہائی شفیق باپ اور بچوں کی پڑھائی اور تربیت پر توجہ دینے والے۔ان کی اہلیہ محترمہ سیدہ طاہرہ طاہر صاحبہ اور تین بیٹے عزیزم رضوان طاہر عمر 32 سال، فرحان طاہر 29 سال، مجتبی طاہر 19 سال اور بیٹیاں صبوحی عثمان اور عزیزہ رباب طاہرہ انہوں نے سوگوار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔شہید مرحوم کے درجات بلند کرے۔دوسرے شہید ہیں مکرم ملک اعجاز احمد صاحب والد مکرم ملک یعقوب احمد صاحب اورنگی ٹاؤن کراچی کے۔ان کی شہادت 4 ستمبر کو ہوئی ہے۔4 ستمبر کو تقریباً پونے گیارہ بجے ان کی شہادت ہوئی۔شہید مرحوم گارمنٹ فیکٹری میں اپنے بھائی مکرم ملک رزاق احمد صاحب کے ہمراہ سٹیچنگ (stiching) کی ٹھیکیداری کا کام کیا کرتے تھے۔دونوں گھر سے فیکٹری جانے کے لئے اپنی علیحدہ علیحدہ موٹر سائیکلوں پر نکلے تو اپنے بھائی سے پیچھے کچھ فاصلے پر تھے کہ رستے میں کھڑے دو نامعلوم افراد نے اُن کے قریب آ کر بائیں سائڈ سے کان کے قریب فائر کیا۔گولی سر سے آر پار ہو گئی جس سے آپ موقع پر شہید ہو گئے۔انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ وقوعہ کے بعد حملہ آور موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔پیچھے آنے والی ایک کار کے