خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 491
خطبات مسرور جلد 11 491 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء شکر گزار ہیں۔بہر حال بہت سے ایسے بھی تھے جو یہاں آئے اور اُن کو سٹیج پر کچھ کہنے کا موقع نہیں ملا، غیر از جماعت مہمان تھے۔بعض ایسے ہیں جنہوں نے اپنے پیغام تو دے دیئے لیکن دلی کیفیت کا اظہار انہوں نے بعد میں کیا اور وہ ایسے اظہار ہیں جن میں کوئی بناوٹ نہیں۔مثلاً ہمارے ہاں بینن کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آئے ہوئے تھے اور انہوں نے وہاں اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔یہ موصوف جو ہیں یہ فرانکوفون ممالک کے سپریم کورٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں اور اس ایسوسی ایشن میں افریقہ کے 58 ممالک شامل ہیں۔یہ وزیر بھی رہ چکے ہیں۔وہ جلسے میں کام کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ سب سے پہلے میں اُن نوجوانوں اور بچوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کو میں نے دن رات اخلاص، محنت اور محبت سے کام کرتے دیکھا۔سب کی مسکراہٹیں بکھرتی دیکھیں۔اتنے بڑے اجتماع میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہوا۔ہر چیز بڑی اچھی تھی۔ڈسپلن کا اعلیٰ نمونہ تھا۔میں اس جلسہ سے اخلاص اور روحانیت کو لے کر جارہا ہوں اور اخلاص اور روحانیت کا یہ اعلیٰ نمونہ صرف احمدیت کا ہی خاصہ ہے۔یہاں آ کر اور اس ماحول کو دیکھ کر مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔کہتے ہیں کہ جلسہ میں کثیر لوگوں کی شرکت کے باوجود انتظام نہایت متاثر کن اور منظم تھا۔اس جلسہ میں ہر قوم کے مقامی اور غیر ملکی ایسے لوگ شامل تھے جو معاشرے میں اعلیٰ مقام رکھنے والے ہیں۔جلسہ میں ہونے والی تمام تقاریر انتہائی اچھے طریق سے پیش کی گئیں۔پھر جب یہ اپنے ملک بینن میں واپس پہنچے تو وہاں ائیر پورٹ پر انہوں نے VIP لاؤنج میں پرنٹ میڈیا کے نمائندوں سے پریس کانفرنس کے دوران اپنے تاثرات کا اظہار کیا جو وہاں کے نیشنل اخباروں میں بھی چھپا۔کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے لندن سے باہر ایک سو بیس ایکٹر زرعی زمین میں، ایک سو بیس ایکٹر اُن کا اندازہ تھا، اصل زمین حدیقۃ المہدی کی دوسو آ ٹھ ایکڑ ہے)۔بہر حال کہتے ہیں زرعی زمین میں اپنا ایک شہر آباد کیا ہوا تھا۔یہاں انسانی ضروریات کی ہر چیز مہیا تھی۔وہاں پر کام کرنے والے نوجوان، بچے اور دوسرے ، سب بڑی محنت سے انتظامات کرتے نظر آئے۔مہمانوں کی خدمت کے جذبے سے بھری اتنی منظم جماعت میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھی۔اگر کسی مہمان کو کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو فوراً اُس مہمان کی ضرورت پوری کرتے۔اگر کسی ایسے نوجوان سے ضرورت بیان کی جاتی جس کا اس چیز سے تعلق نہ ہوتا تو وہ متعلقہ شعبہ سے رابطہ قائم کر کے وہ چیز مہیا کر دیتا۔پھر کہتے ہیں کہ جلسے کے دوران امام جماعت احمد یہ جب تقریر کرتے تو اتنے بڑے مجمع میں سے میں نے کسی کو بولتے نہ دیکھا۔سب خاموشی