خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 474

خطبات مسرور جلد 11 474 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء رہیں گے کہ آپ نے فرمایا کہ: "میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اُس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتارہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔‘ فرمایا ” مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 292 مطبوعہ ربوہ ) پس یہ بہت اہم نصیحت ہے۔یہ صرف ہمارا زبانی عہد نہ ہو بلکہ عملی نمونہ ہو۔اب دنیا کے مختلف ممالک میں جلسے ہوتے ہیں وہاں بھی مہمان آتے ہیں، لیکن یہاں خاص طور پر دنیا کے مختلف ممالک سے مختلف قومیں جلسے پر آتی ہیں۔ہر قوم اور طبقے کا معیار مختلف ہے۔برداشت کا مادہ مختلف ہے۔ان کے بات چیت اور جذبات کے اظہار کے طریق مختلف ہیں۔ان کی ہمارے سے تو قعات مختلف ہیں۔ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔اس لئے ہر ایک کے ساتھ بڑی حکمت سے معاملہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی یہ پر حکمت نصیحت ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنی چاہئے۔اگر یہ سامنے ہوگی تو سب معاملے ٹھیک ہو جائیں گے کہ مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔“ اگر ہر خدمت کرنے والا اس نصیحت کو پلے باندھ لے تو کبھی جو چھوٹے موٹے مسائل پیدا بھی ہوتے ہیں، الا ماشاء اللہ وہ پیدا نہ ہوں۔شکایات کبھی نہیں ہوں گی سوائے اس کے کہ کسی کا مقصد ہی شرارت کرنا ہو، تو وہاں تو بہر حال بعض دفعہ سختیاں بھی کرنی پڑتی ہیں۔گزشتہ سال ایک واقعہ ہوا تھا۔عورتوں کے کھانے کی دعوت کے دوران ایک خاتون مہمان جو بڑے دور دراز علاقے سے آئی تھیں کسی وجہ سے ناراض ہو گئیں۔اس میں غلطی کسی کارکن کی تھی یا نہیں تھی لیکن ہمیں اس کو بہر حال تسلیم کرنا چاہئے تبھی اصلاح ہو سکتی ہے۔بجائے اس کے کہ مختلف قسم کی تاویلیں پیش کی جائیں۔اس مرتبہ تبشیر کے مہمانوں میں مردوں اور عورتوں دونوں طرف اس بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی کو بھی تکلیف نہ ہو، کیونکہ یہ مختلف غیر ملکی مہمان ہوتے ہیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں ، ویسے تو جیسا کہ میں نے کہا ، سب مہمان ہی مہمان ہیں۔بہر حال اس شعبہ میں میں نے کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں۔یہ تبدیلیاں انتظامی لحاظ سے ہیں۔انتظامیہ کو بدلا ہے اور زیادہ تر واقفین کو اور واقفات ٹو کو شامل کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بھی اب اللہ تعالیٰ نے ہم پر ایک انعام کیا ہے کہ بہت سارے واقفین کو اور واقفات تو اس عمر کو پہنچ چکے ہیں اور تیار ہو چکے ہیں جو اپنے کام کو سنبھال سکیں۔کچھ مستقل جماعت کی خدمت کر کے سنبھال رہے ہیں اور کچھ عارضی