خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 397

خطبات مسرور جلد 11 397 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمارے سامنے ہے اور اُس سے ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ آپ رمضان کے مہینے میں صدقہ و خیرات تیز آندھی کی طرح فرمایا کرتے تھے۔(صحيح البخاری کتاب بدء الوحى باب نمبر 5 حدیث نمبر (6) پس ایک مومن کا بھی فرض ہے کہ اس سنت پر عمل کرے۔یقینا یہ معاشرے میں بے چینیوں کو دور کرنے کا باعث بنتا ہے۔ایک مومن کے دل میں دوسرے مومن کے لئے ، اپنے کمزور اور ضرورتمند بھائی کے لئے نرمی کے اور پیار کے جذبات پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ایک غریب مومن کے دل میں اپنے مالی لحاظ سے بہتر بھائی کے لئے جو روزے کا حق ادا کرتے ہوئے اُس کا بھی حق ادا کر رہا ہے،شکر گزاری اور پیار کے جذبات پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔پھر روزہ جو تقویٰ کے حصول کے لئے ہو، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اُس میں مشقت کی عادت بھی پیدا ہوتی ہے۔سحری اور افطاری میں کم خوری اس لئے نہیں ہوتی کہ دوسروں پر اظہار ہو، بلکہ اس لئے ہوتی ہے کہ جسمانی روٹی کم کر کے تزکیہ نفس کی طرف زیادہ توجہ ہو۔پس وہ لوگ جو اس وہم میں ہیں کہ ہم کم کھا کے کمزور نہ ہو جائیں ،سحری اور افطاری میں ضرورت سے زیادہ پرخوری کرتے ہیں ، اُن کے لئے بھی سبق ہے کہ اپنی خوراک کو کنٹرول کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر ضروری مواقع پر جہاں فتنہ وفساد کا خطرہ ہو، رنجشوں کے بڑھنے کا خطرہ ہو، روزے دار کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تم اني صائمہ “ کہ میں روزہ دار ہوں ، کہا کرو۔اس میں تقویٰ کے راستوں کی طرف نشاندہی فرمائی ہے کہ روزے کا حق ادا کرنے کے لئے تقویٰ کے حصول کے لئے اپنے جذبات پر کنٹرول بھی ضروری ہے۔تم نے اپنے آپ کو جھگڑوں سے بھی بچانا ہے کہ روزے کا مقصد پورا ہو۔تم نے اپنے آپ کو غیبت سے بھی بچانا ہے کہ روزے کا مقصد پورا ہو۔تم نے اپنے آپ کو جھوٹ اور غلط بیانی سے بھی بچانا ہے کہ روزے کا مقصد پورا ہو۔پس روزے دار کے لئے زبان کے غلط استعمال سے رُکنا بھی ضروری ہے۔ایک مہینہ کی زبان کو قابو میں رکھنے اور غلط استعمال سے روکنے کی یہ عادت جو تقویٰ کے حصول کے لئے ضروری ہے، پھر آئندہ زندگی میں بھی بہت سے گناہوں اور غلطیوں سے بچانے کا باعث بنتی ہے۔ایک مہینہ کی عادت سے مستقل مزاجی سے ایک مہینہ تک برائیوں سے پر ہیز کرنے کی عادت پڑتی ہے۔تقویٰ پر مستقل پر چلنے کی مستقل عادت پڑ جاتی ہے۔تقویٰ کی تلاش کی عادت پڑ جاتی ہے اور یہ عادت ہی اصل میں روزہ اور رمضان کا