خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 32

خطبات مسرور جلد 11 32 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور نیکی کی تعلیم دیں اور بدیوں سے روکیں۔اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔مومنوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ تمام کے تمام اکٹھے نکل کھڑے ہوں۔پس ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ان کے ہر فرقہ میں سے ایک گروہ نکل کھڑا ہوتا کہ وہ دین کا فہم حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو خبر دار کریں جب وہ ان کی طرف واپس لوٹیں تا کہ شاید وہ ہلاکت سے بچ جائیں۔یہ آیات سورۃ آل عمران، سورۃ توبہ اور سورۃ الصافات کی آیات ہیں۔ان آیات میں ماں کی خواہش، ماں باپ کی بچوں کی صحیح تربیت، بچوں کے احساس قربانی کو اجا گر کرنا اور اس کے لئے تیار کرنا، وقف زندگی کی اہمیت اور کام اور پھر یہ کہ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد کیا ہے؟ یہ بیان کیا گیا ہے۔پہلی آیت جو سورۃ آل عمران کی ہے، یہ چھتیسویں آیت ہے۔اس میں ایک ماں کا بچے کو دین کی خاطر وقف کرنے کی خواہش کا اظہار ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کو قبول کر لے۔پھر سورۃ صافات کی آیت 103 ہے جو اس کے بعد میں نے تلاوت کی ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کے لئے تیار کرنے کی خاطر باپ کا بیٹے کی تربیت کرنا اور بیٹے کا خدا تعالیٰ کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہونے کا ذکر ہے۔باپ کی تربیت نے بیٹے کو خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ جوڑ دیا اور بیٹے نے کہا کہ اے باپ ! تو ہر قسم کی قربانی کرنے میں مجھے ہمیشہ تیار پائے گا اور نہ صرف تیار پائے گا بلکہ صبر واستقامت کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے والا پائے گا۔پھر سورۃ آل عمران کی آیت 105 میں نے تلاوت کی جس میں نیکیوں کے پھیلانے اور پھیلاتے چلے جانے والے اور بدیوں سے روکنے والے گروہ کا ذکر ہے۔کیونکہ یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن کر ایک انسان کو کامیاب کرتی ہیں۔پھر سورۃ توبہ کی 122 ویں آیت ہے جو میں نے آخر میں تلاوت کی ہے۔اس میں فرمایا کہ نیکی بدی کی پہچان کے لئے دین کا فہم حاصل کرنا ضروری ہے۔اور دین کا فہم کیا ہے؟ یہ شریعت اسلامی ہے یا قرآن کریم ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة :4) اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی پسند حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اور یہ سب کچھ کرنے کا مقصد کیا ہے؟ وہ یہ بیان فرمایا کہ تا کہ تم دنیا کو ہلاکت سے بچانے والے بن سکو۔پس یہ وہ مضمون