خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 262

خطبات مسرور جلد 11 262 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 مئی 2013 ء یا نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔جن کے نہ کرنے کا حکم ہے اُن کو کر کے انسان اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدوں کو پھلانگ رہا ہوتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جو اپنے حق قائم کئے ہیں اُن کو تو ڑ رہا ہوتا ہے اور پھر جن کے کرنے کا حکم ہے انہیں نہ کر کے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے انسان باہر نکل رہا ہوتا ہے۔پس انسان کسی بھی کام کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کر کے یانہ کر کے خدا تعالیٰ کی حدوں کو توڑ کر تقویٰ سے دور ہٹتا چلا جاتا ہے اور جوں جوں تقویٰ سے دوری ہوتی ہے انسان شیطان کی جھولی میں گرتا چلا جاتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ ایک مومن نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کام نہ کرے بلکہ شیطان جو چھپ کر حملہ کرتا رہتا ہے ان حملوں سے بھی آگاہ رہے۔ہر وقت اس کی نظر شیطان کے حملوں کی طرف ہو کہ کہیں وہ اُس پر حملہ آور نہ ہو جائے اور پھر اس آگاہی کی وجہ سے شیطان کے پوشیدہ جملوں سے اپنے آپ کو بچائے۔شیطان کے حملے مختلف طریقوں سے ہوتے ہیں۔اس زمانے کی ایجادات میں بھی بہت سی ایسی ہیں جو خود انسان کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔اُن کے اچھے مقاصد کی بجائے وہ ایسے کاموں کے لئے استعمال ہو رہی ہوتی ہیں جہاں شیطان کے حملے کا خطرہ ہے یا شیطان کا حملہ ہورہا ہوتا ہے۔عبادتوں سے دور لے جارہی ہوتی ہیں۔اخلاق پر برا اثر ڈال رہی ہوتی ہیں۔بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ یہ میرے ذاتی معاملات ہیں اور کسی کو کیا کہ میں جو اکھیلتا ہوں۔یا رات گئے تک انٹر نیٹ پر فلمیں دیکھتا ہوں اور ٹی وی دیکھتا ہوں یا اس قسم کے اور کام کرتا ہوں۔بہت سارے ایسے غلط کام انسان کرتا ہے اور اُس کے خیال میں کسی کو اُن سے غرض نہیں ہونی چاہئے کیونکہ وہ کسی کو براہ راست نقصان نہیں پہنچار ہے۔لیکن جو غلط کام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق نہیں ہے، اُس کی مرضی کے خلاف ہے، وہ اسے پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بھی دور لے جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے سے بھی دور لے جاتا ہے اور بندوں کے حق ادا کرنے سے بھی دُور لے جاتا ہے۔ان ملکوں میں شرا ہیں، جوا، انٹرنیٹ، گندی اور لغو فلمیں ہیں، غلط دوستیاں ہیں۔یہ جہاں گھروں کو اُجاڑ رہی ہوتی ہیں وہاں نو جوانوں کو غلط راستے پر ڈال کر خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان سے بھی ہٹا کر معاشرے کا ناسور بنارہی ہوتی ہیں۔وہ لوگ ایک مستقل بیماری بن رہے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے ہر عضو کا اور ہر سوچ کا اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اور برمحل استعمال تمہیں تقویٰ میں بڑھائے گا اور اس کے خلاف عمل تمہیں شیطان کی گود میں پھینک دے گا اور جو شیطان کی گود میں گرتا ہے وہ یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتا ہے۔