خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد دهم 91 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء سے فائدہ ہم بھی اٹھا رہے ہیں، ہمیں خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ تمام بدعات سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور ایمانوں کو مضبوط کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اُس کی ربوبیت کی صحیح پہچان کرنی ہے۔تبھی ہم اس نئی زمین اور نئے آسمان سے فیضیاب ہو سکتے ہیں۔پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ جب بندہ اپنے رب کو حقیقی رنگ میں پہچان لیتا ہے، اُس کی عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے لگتا ہے تو پھر وہ رب العلمین کا وہ ادراک پاتا ہے جو اُ سے دوسروں سے ممتاز کر دیتا ہے۔اس کی تفصیل میں آپ فرماتے ہیں کہ: اللہ پاک ذات نے اپنے قول رَبّ العلمین میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اُسی کی حمد ہوتی ہے اور پھر حمد کرنے والے ہمیشہ اُس کی حمد میں لگے رہتے ہیں اور اپنی یاد خدا میں محو رہتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر ہر وقت اُس کی تسبیح و تحمید کرتی رہتی ہے۔اور جب اُس کا کوئی بندہ اپنی خواہشات کا چولہ اُتار پھینکتا ہے، اپنے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اور اُس کی راہوں اور اُس کی عبادات میں فنا ہو جاتا ہے۔اپنے اس رب کو پہچان لیتا ہے جس نے اپنی عنایات سے اُس کی پرورش کی ، وہ اپنی تمام اوقات میں اُس کی حمد کرتا ہے اور اپنے پورے دل بلکہ اپنے ( وجود کے ) تمام ذرات سے اُس سے محبت کرتا ہے تو اس وقت وہ شخص عالمین میں سے ایک عالم بن جاتا ہے۔“ اردو تر جمه عربی عبارت از اعجاز مسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 137 ، 138 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 96) پھر آپ نے اس کی مثالیں دی ہیں اور فرمایا کہ عالمین سے ایک عالم وہ ہے جس میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔اور پھر آپ نے اپنے زمانے کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے طالبوں پر رحم کر کے ایک اور گروہ پیدا کیا ہے جو مسیح موعود اور مہدی معہود کا گروہ ہے۔پس جب ہم رب العالمین کے اس بھیجے ہوئے کے ساتھ منسلک ہو گئے ہیں تو ہمیں اس عالم کا حصہ بننے کے لئے اپنی ترجیحات خالصہ اللہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہم رب العالمین کے انعامات سے فیض پانے والے بن سکیں پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ عالمین میں کیا کچھ شامل ہے؟ عالمین کی تعریف کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ : عالمین سے مراد مخلوق کو پیدا کرنے والے خدا کے سوا ہر ہستی ہے خواہ وہ عالم ارواح سے ہو یا عالم اجسام سے (روحیں ہیں یا جسم ہے، جو بھی ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز جو ہے وہ عالمین میں شامل