خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 786
خطبات مسر در جلد دہم 786 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012ء مشتمل سوال و جواب ہوئے اُس سے میں ذاتی طور پر بہت متاثر ہوا ہوں۔مسلمانوں کے رہنما سے اس قسم کے پیغام کی دنیا کوضرورت ہے۔یہ امن کا پیغام در اصل ہمارے اپنے دلوں کی آواز ہے جن کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ دیگر مذاہب سے بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیہ مسلم جماعت روز بروز ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ ان کی ہر براعظم میں شاخیں ہیں۔احمد یہ کمیونٹی کی تعلیمات کو بہت کم لوگ جانتے ہیں لیکن ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس کمیونٹی کے بنیادی پیغام کو یورپ میں پھیلائیں جو کہ محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں، پرمش ہے۔یہ امن کا پیغام ہے اور یہ امن صرف مسلمانوں کے بیچ نہیں بلکہ دنیا میں موجود تمام مذاہب کے درمیان امن کا پیغام ہے۔پھر کہتے ہیں کہ آجکل جماعت احمد یہ دنیا کیلئے امن اور برداشت کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔جبکہ دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی، امن اور انسانی حقوق دونوں کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔یہ مذہبی انتہا پسندی پھر عالمی سطح پر ہونے والی دہشتگردی کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو خود اس انتہا پسندی کا جواب دینے کی ضرورت ہے جیسا کہ جماعت احمدیہ اس انتہا پسندی کا جواب دے رہی ہے۔پھر انہوں نے خطاب (ایڈریس) پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے متأثر کن اور وسیع المعنی خطاب پر بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔آپ نے اپنے خطاب میں مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا۔آپ نے امن اور برداشت کے متعلق اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آگاہ کیا۔یہ بھی ذکر کیا که ترقی یافتہ ممالک کو غریب اقوام اور پسماندہ ممالک کی مدد کرنی چاہئے۔نیز ان ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا جو کہ مغرب اور بالخصوص یورپی یونین کے ممالک پر عائد ہوتی ہیں اور جو کہ انہیں فکر کے ساتھ اور ہمدردی کے ساتھ ادا کرنی چاہئیں۔اور مجھے اس بات پر بھی حیرانی ہے کہ آپ نے نڈر ہو کر اور جرأت مندانہ طور پر امیگریشن کے حوالہ سے پیش آنے والے مسائل کا اپنے خطاب میں ذکر کیا ہے۔بطور ایک سیاستدان ہونے کے میں جانتا ہوں کہ یہ ہمارے ملک کا اہم مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی رکھنا، ایک دوسرے کے لئے برداشت پیدا کرنا آج کا اہم ترین پیغام تھا جس کو ساتھ لے کر ہمیں یہاں سے رخصت ہونا چاہئے۔اسٹونیا سے تعلق رکھنے والے ممبر آف یورپین پارلیمنٹ Mr Tunne Kelam اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں کہ آپ کی جماعت شدت پسندی اور ظلم کو یکسر رد کرتی ہے جو کہ آج کل کی دنیا میں