خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 732
خطبات مسرور جلد دہم 732 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا سرور احمد خلیفہ مسیح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012 ء بمطابق 30 رنبوت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح_مورڈن۔لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس وقت میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متفرق واقعات پیش کروں گا جن میں صحابہ کا آپ پر کامل یقین اور اُس کے واقعات ہیں۔پھر صحابہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا جواثر ہوا، اُن کو پڑھ کر جو اُن کے دل میں سچائی ظاہر ہوئی، ان کے ایک دو واقعات ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کس طرح خوابوں کے ذریعے رہنمائی فرمائی، وہ واقعات ہیں ، ایک ایک واقعہ ہی ہے۔کیونکہ واقعات لمبے ہیں اس لئے میں نے ایک دو لئے ہیں۔حضرت شیخ زین العابدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہماری بھاوج بیمار ہوگئیں اور سخت بیمار ہوئیں۔ہم نے سوچا کہ اب سوائے قادیان جانے کے اور کوئی ٹھکانہ نہیں۔یعنی وہیں لے چلتے ہیں وہاں حضرت خلیفہ اول ہیں، حکمت، اُن سے علاج کرائیں گے یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کریں گے اور ساتھ دعا۔بہر حال کہتے ہیں ہم چل پڑے، والدہ بھی ساتھ تھیں اور بھائی بھی ساتھ تھا۔راستے میں ہم نے ( کیونکہ ہاتھ سے لکھا گیا ہے اس لئے صحیح طرح وہاں سے پڑھا نہیں جاتا۔بہر حال یہی لکھا ہے کہ) لڑکی کو سمجھایا۔یعنی اس بیمار عورت کو کہ حضرت صاحب کہیں گے کہ مولوی نورالدین صاحب سے تمہارا علاج کراتے ہیں مگر تم کہنا کہ میں تو حضور ہی کا علاج چاہتی ہوں، مولوی صاحب سے ہر گز علاج نہیں کرواؤں گی۔کہتے ہیں جب ہم قادیان پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی فرمایا کہ مولوی صاحب آپ کا علاج کریں گے۔مگر اُس لڑکی نے کہا کہ حضور میں تو مولوی صاحب کے علاج کرنے کیلئے تیار نہیں۔حضور خود ہی علاج کریں۔حضور علیہ السلام نے ایک دوائی لکھ دی اور تین بوتلیں شہد کی گھر