خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 683
خطبات مسر در جلد دہم 683 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء قریبی دوست بھی تھے اور ڈاکٹر کی حیثیت سے ان کے ڈاکٹر بھی تھے۔اور ڈاکٹر صاحب نے ان کے نائب امیر کے طور پر بھی ان کے ساتھ کام کیا کہتے ہیں ہر لحاظ سے میں نے ان کو دیکھا ہے۔یہ فضل الرحمن صاحب بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔خدا تعالیٰ سے بہت ڈرنے والے، ہر قسم کے حالات میں ہمیشہ اُسی پر توکل رکھنے والے، خلافت سے آپ کا کامل وفا، پیار اور اطاعت کا تعلق تھا۔جب بھی خلیفہ وقت کا ذکر ہوتا تو آپ کی آواز بھرا جاتی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے۔ان کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف جماعت کی خدمت تھا۔ان کو بہت سی بیماریاں لاحق تھیں اور ویل چیئر استعمال کرتے تھے لیکن اس کے باوجود دینی خدمات کے لئے بہت محنت کیا کرتے تھے۔آخری دو تین سال تو ویل چیئر پر تھے۔کبھی شکوہ نہ کرتے تھے اور کبھی ماتھے پر بل نہ لاتے تھے۔غریبوں، ضرورتمندوں، یتیموں، بیواؤں اور مستحق طلباء کا بہت خیال رکھتے تھے۔عزیز رشتہ داروں، مختلف پریشان حال اور مالی بحران سے متاثرہ خاندانوں کی مدد اور رہنمائی کیا کرتے تھے۔قائد خدام الاحمدیہ ضلع راولپنڈی لکھتے ہیں کہ محترم امیر صاحب ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔آپ انتہائی ملنسار، غریب پرور، ہمیشہ راضی بقضاء رہنے والے ، خلافت سے دلی محبت رکھنے والے، صابر و شاکر بزرگ انسان تھے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی حقیقی تصویر تھے۔کہتے ہیں کہ خاکسار کو محترم امیر صاحب کے بہت قریب رہنے کا موقع ملا۔ان کی شفقت اور محبت ایک باپ سے بڑھ کر تھی۔اور یہ رویہ ہے جو ہر جگہ ہر امیر اور ہر صدر کا خدام الاحمدیہ کے نظام کے ساتھ اور باقی نظاموں کے ساتھ بھی ہونا چاہئے۔اور ہر قائد کا نوجوانوں کے ساتھ بھی ، قائدین اور صدر ان کو یہی رویہ رکھنا چاہئے )۔یہ لکھتے ہیں کہ خاکسار کو بھی جس حد تک ہو سکا ایک بیٹے کی طرح اُن کے زیر سایہ جماعت کی خدمت کرنے کی توفیق ملی۔اور یہ سب جو ان کی خوبیاں بیان ہورہی ہیں، ان میں میں نے دیکھا ہے کہیں بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے بلکہ شاید کوئی کمی رہ گئی ہو۔قائد صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے امیر صاحب کو قیادت اور امارت کی قائدانہ صلاحیتوں سے بھی خوب نوازا تھا۔آپ کو ہر عہدیدار اور کارکن سے اُس کی اہلیت اور قابلیت اور طاقت کے مطابق کام لینے کا سلیقہ اور ڈھنگ آتا ہے اور ہر عہدے دار بلکہ جماعت کا ہر فرد آپ کے ہر حکم اور ارشاد کی تعمیل بجالا کر خوشی محسوس کرتا اور اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتا تھا۔خدام الاحمدیہ سے ان کی شفقت بھی ایک باپ سے بڑھ کر تھی۔خاکسار کو یہ کہنے میں کوئی و ہم نہیں کہ خدام الاحمد یہ راولپنڈی نے جو پچھلے دس سالوں میں غیر معمولی ترقی اور مضبوطی حاصل کی ہے اس میں محترم امیر صاحب کا سب سے بڑا حصہ ہے۔