خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 50
خطبات مسر در جلد دہم 50 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء آج میں ایک ایسے شخص کا ذکر کروں گا جس کا ہر جاننے والا ان کی خوبیوں کے بیان میں رطب اللسان تھا۔ایک ایسا شخص جو پاکستانی یا ہندوستانی احمدی نہیں تھا۔کسی صحابی کی اولاد یا پیدائشی احمدی نہیں تھا۔لمبے عرصے کی بچپن سے لے کر جوانی تک اور پھر بڑھاپے تک خلفاء کے زیر اثر یا جماعت کے زیر سایہ اُس کی تربیت نہیں تھی۔چند سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آیا اور بہتوں کو پیچھے چھوڑ گیا۔یہ ہمارے بھائی مکرم را ویل بخاری صاحب تھے جو رشین تھے۔جن کی وفات 24 جنوری کو ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔گو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر روس میں ایمان لانے والے ابتدائی مٹھی بھر ذروں میں سے ایک ذرہ تھے لیکن اپنے علم و عرفان، اخلاص و وفا، بے نفسی ، خلافت سے بے انتہا تعلق ، عاجزی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو روس میں پہنچانے کی تڑپ کے لحاظ سے ایک روشن ستارہ تھے جس نے بہتوں کی رہنمائی کا کام کیا اور انشاء اللہ تعالیٰ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کے پورا ہونے پر احمدیت روس میں ریت کے ذروں کی طرح پھیلے گی تو تاریخ انشاء اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو ، راویل بخاری صاحب کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی ، انشاء اللہ اس وقت میں مکرم را ویل صاحب مرحوم کا کچھ مزید ذکر کرتا ہوں۔راویل صاحب جماعتی خدمات تو اُس وقت بھی بے انتہا کرتے تھے اور انہوں نے کی ہیں جب ابھی وہ احمدیت سے متعارف ہوئے تھے اور احمدی نہیں تھے۔اُس وقت بھی انہوں نے ترجمے کے کام کئے ہیں۔پھر یہاں بی بی سی میں رشین پروگراموں میں ملازمت کرتے رہے۔وہاں سے فراغت حاصل کی ہے تو پھر اپنے آپ کو مکمل طور پر وقف کر دیا۔ایسے لگتا تھا کہ رات دن ایک ہی تڑپ ہے کہ کسی طرح میں اپنا کوئی بھی محہ احمدیت کی خدمت کے بغیر نہ گزاروں۔ہرلمحہ میرا احمدیت کی خدمت کی طرف ہو۔وفات والے دن بھی اس خدمت کے جذبہ سے ہی مامور تھے اور ایم ٹی اے کے لئے ایک پروگرام بنانے کے لئے ایک میٹنگ میں آنے کے لئے تیاری کر رہے تھے۔اس تیاری کے دوران میں ہی اُن کا فون آیا کہ اُن کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اس لئے وہ نہیں آسکیں گے۔انہیں بڑا سخت ہارٹ اٹیک ہوا، جو جان لیوا ثابت ہوا اور اس طرح وفات ہوئی۔وفات کے وقت ان کی عمر اکسٹھ سال تھی۔آپ کے لواحقین میں ایک اہلیہ ہیں اور اپنی اولاد نہیں تھی۔اہلیہ کا پہلے ایک بیٹا تھا جو وفات پاچکا ہے۔جماعت سے راویل صاحب کا تعارف 1990 ء کے آغاز میں کلیم خاور صاحب کے ذریعے سے