خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 349
خطبات مسرور جلد دہم 349 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء قیامت کے دن اُس کی بے چینی اور تکلیفوں کو اُس سے دور کر دے گا اور جس نے کسی تنگدست کو آرام پہنچایا اور اُس کے لئے آسانی مہیا کی ، اللہ تعالیٰ آخرت میں اُس کے لئے آسانیاں مہیا کرے گا۔جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ آخرت میں اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔اللہ تعالیٰ اُس بندے کی مدد کے لئے تیار رہتا ہے جو اپنے بھائی کی مدد کے لئے تیار ہو “ (مسلم) كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر حديث: 6853) پس کون ہے جو یہ دعوی کرے کہ میں قیامت کے دن تمام قسم کی بے چینیوں سے پاک رہوں گا۔کون ہے جو اپنے عمل پر نازاں ہو کہ میں نے بہت نیک اعمال کو کما لیا ہے، بہت نیک عمل کر لئے ہیں۔پس یہ دنیا تو بڑے خوف کا مقام ہے۔ہر دم، ہرلمحہ اس فکر میں ایک مومن کو رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہوئے نیکیوں کی توفیق پاؤں۔پتہ نہیں کونسی چیز مجھے خدا تعالیٰ کے قریب کر دے۔میری بخشش کا سامان کر دے۔کتنا پیارا ہمارا خدا ہے اور کتنا پیارا ہمارا رسول ہے جس نے ہر عمل کے بارے میں کھول کر بتا دیا۔کسی عمل کو بھی کم اہمیت نہیں دی۔پس کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو اپنے خدا کو راضی کرنے اور اپنی عاقبت کو سنوارنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔اس کوشش میں لگے رہتے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ اُن کی بے چینیوں کو دور فرمائے ، تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دوسرے سے ہمدردی اور شفقت کے بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں۔” نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ ایک زبر دست ذریعہ ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ان پر ٹھٹھے کیے جاتے ہیں۔ان کی خبر گیری کرنا اور کسی پر ٹھی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 438-439۔ایڈیشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ) یہ تو بہت بڑی بات ہے کہ خبر گیری کی جائے، اُن کا تو مذاق اُڑایا جاتا ہے، ٹھٹھے کئے جاتے ہیں۔) پھر آپ فرماتے ہیں: "پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے کہ اگر انسان اُسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جبتک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت ،سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 216-217۔ایڈیشن 2003, مطبوعد ربوہ )