خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 348
خطبات مسرور جلد دہم 348 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء یقینا تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول میں اسوہ حسنہ ہے۔آپ نے صرف مومن کی یہی تعریف نہیں کی کہ اُس کے شر سے مسلمان محفوظ رہے بلکہ فرمایا مومن وہ ہے جس سے دوسرے تمام انسان امن میں رہیں۔اور آپ وہ ہستی تھے جو ہمدردی خلق میں بھی اپنے نمونے کے لحاظ سے انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔شفقت اور رافت میں بھی آپ انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔اور کوئی خلق ایسا نہ تھا جس کی انتہائی حدود کو بھی آپ نے نہ پا لیا ہو۔پس آج جب ہم اپنے آپ میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں تو ان نمونوں کی جگالی کرنے کی ضرورت ہے۔اُن نصائح کو سننے کی ضرورت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونے اور آپ کے حوالے سے ہم تک پہنچیں۔آپ نے فرمایا۔دین خیر خواہی کا نام ہے۔جب عرض کیا گیا کس کی خیر خواہی؟ تو آپ نے فرمایا اللہ ، اس کی کتاب، اُس کے رسول، مسلمان ائمہ اور اُن کے عوام الناس کی خیر خواہی۔“ (صحیح مسلم كتاب الايمان باب بيان أن الدين النصيحة حديث: 196) پس ایک حقیقی مومن کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔عوام الناس کی خیر خواہی کے مقام کو بھی اُس مقام تک پہنچا دیا جس کی ادائیگی کے بغیر نہ خدا تعالیٰ کا حق ادا ہو سکتا ہے، نہ اُس کی کتاب کا حق ادا ہوسکتا ہے، نہ اُس کے رسول کا حق ادا ہو سکتا ہے۔اس بات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بیان فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حقیقی تقویٰ صرف ایک قسم کی نیکی سے حاصل نہیں ہوتا جبتک کہ تمام قسم کی نیکیوں کو بجالانے کی کوشش نہ ہو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 680 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر دیکھیں ہمارے آقا و مطاع صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق کے حصول کے لئے عاجزی کی انتہائی حدوں کو پہنچی ہوئی دعا۔وہ نبی جو ہر وقت اپنی جان کو دشمنوں کے لئے بھی ہمدردی کے جذبے کے تحت ہلکان کر رہا تھا، جس کا رواں رواں اپنوں کے لئے سراپا رحمت و شفقت تھا ، اپنے رب کے حضور عاجزی اور بیقراری سے یہ دعا کرتا ہے کہ اے میرے اللہ! میں بُرے اخلاق اور برے اعمال سے اور بری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔(سنن الترمذی ابواب الدعوات باب دعاء امّ سلمة حديث: 3591) پس یہ وہ تقویٰ ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ وہ یہاں ہے اور یہ وہ کامل اسوہ ہے جس کی پیروی کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم فرمایا ہے۔پس ہمیں کس قدر اس دعا کی ضرورت ہے۔کس قدر اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔کس قدر ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں ”جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی بے چینی اور تکلیف کو دور کیا اللہ تعالیٰ