خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 106

خطبات مسرور جلد دہم 106 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012ء اصل چیز دنیا میں اسلامستان کا قیام ہے (اسلام کے نام سے آپ نے فرمایا اصل چیز دنیا میں اسلامستان کا قیام ہے )۔”ہم نے پھر سارے مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے۔ہم نے پھر اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام ممالک میں لہرانا ہے۔ہم نے پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عزت اور آبرو کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔ہمیں پاکستان کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے، ہمیں مصر کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے، ہمیں عرب کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں ایران کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے مگر ہمیں حقیقی خوشی تب ہوگی جب سارے ملک آپس میں اتحاد کرتے ہوئے اسلامستان کی بنیا درکھیں۔ہم نے اسلام کو اُس کی پرانی شوکت پر پھر قائم کرنا ہے۔ہم نے خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے عدل اور انصاف کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور ہم نے عدل و انصاف پر مبنی پاکستان کو اسلامک یونین کی پہلی سیڑھی بنانا ہے۔یہی اسلامستان ہے جو دنیا میں حقیقی امن قائم کرے گا۔“ ( تقریر جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1947ء انوارالعلوم جلد 19 صفحہ 388) کاش کہ پاکستان کے عوام اور جو پاکستان کو اوپر لے جانے والے آجکل کے لیڈر اور علماء بنے پھرتے ہیں، وہ اس بات کو سمجھ سکیں۔فرماتے ہیں کہ : ہر ایک کو اُس کا حق دلائے گا۔جہاں روس اور امریکہ فیل ہوا،صرف مکہ اور مدینہ ہی انشاء اللہ کامیاب ہوں گے ، فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں اس وقت ایک پاگل کی بڑ معلوم ہوتی ہیں مگر دنیا میں بہت سے لوگ جو عظیم الشان تغیر کرتے ہیں وہ پاگل ہی کہلاتے رہے ہیں۔اگر مجھے بھی لوگ پاگل کہہ دیں تو میرے لئے اس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔میرے دل میں ایک آگ ہے، ایک جلن ہے، ایک تپش ہے جو مجھے آٹھوں پہر بے قرار رکھتی ہے۔میں اسلام کو اُس کی ذلت کے مقام سے اٹھا کر عزت کے مقام پر پہنچانا چاہتا ہوں۔میں پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانا چاہتا ہوں۔میں پھر قرآنِ کریم کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ یہ بات میری زندگی میں ہوگی یا میرے بعد ، لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میں اسلام کی بلند ترین عمارت میں اپنے ہاتھ سے ایک اینٹ لگانا چاہتا ہوں یا اتنی اینٹیں لگانا چاہتا ہوں جتنی اینٹیں لگانے کی خدا مجھے توفیق دیدے۔میں اس عظیم الشان عمارت کو مکمل کرنا چاہتا ہوں یا اس عمارت کو اتنا اونچا لے جانا چاہتا ہوں جتنا اونچالے جانے کی اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے۔اور میرے جسم کا ہر زہ اور میری روح کی ہر طاقت اس کام میں خدا تعالیٰ کے فضل