خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد دہم 92 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012ء ہے خواہ وہ زمینی مخلوق ہے یا سورج اور چاند اور اُن کے علاوہ دیگر اجرام کی مانند کوئی چیز ہو۔پس تمام عالم جناب باری کی ربوبیت کے تحت داخل ہیں۔“ اردو ترجمه عربی عبارت از اعجاز مسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 139 ، 140 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 97) پس جب سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے تحت ہے اور ہم جانتے بھی ہیں کہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو سب عالموں کا پرورش کرنے والا ہے لیکن پھر بھی ایسے مواقع آ جاتے ہیں جب بعض اوقات بندہ بندوں کو اپنا رب اور رازق سمجھنے لگ جاتا ہے۔معاشرے کے دباؤ میں آکر دنیا داری غالب آ جاتی ہے، ایسے حالات میں ایک مومن کو فوراً اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور کوشش کرنی چاہئے اور جائزہ لیتے ہوئے تو بہ اور استغفار سے کام لیتے ہوئے رب العالمین کی طرف لوٹنا چاہئے تا کہ جس نئی زمین میں ہم آباد ہوئے ہیں اور جس نئے آسمان کی چھت ہمارے اوپر ہے اُس سے ہم فیض پاسکیں۔پھر اس رب العلمین کی وضاحت میں اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ ظاہر ضرورتوں کے ساتھ روحانی ضرورتیں بھی اللہ تعالیٰ پوری فرماتا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ : ” خدا تمام دنیا کا خدا ہے اور جس طرح اُس نے ظاہری جسمانی ضروریات اور تربیت کے واسطے مواد اور سامان تمام قسم کی مخلوق کے واسطے بلا کسی امتیاز کے مشترکہ طور پر پیدا کئے ہیں اور ہمارے اصول کے رو سے وہ رب العالمین ہے اور اُس نے اناج ، ہوا، پانی ، روشنی وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں اسی طرح سے وہ ہر ایک زمانے میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتا فوقتا مصلح بھیجتا رہا ہے، جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وَاِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 619 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پس جو بھیجتا رہا ہے تو اس زمانے میں بھی بھیجا۔پھر رب العالمین کے اس پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا فیض کسی خاص قوم سے خاص نہیں ہے آپ فرماتے ہیں کہ : خدا نے قرآن شریف کو پہلے اسی آیت سے شروع کیا ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے کہ الحمد لله رب العلمين - یعنی تمام کامل اور پاک صفات خدا سے خاص ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے عالم کے لفظ میں تمام مختلف قومیں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں۔اور اس آیت سے جو قرآن شریف شروع کیا گیا یہ در حقیقت اُن قوموں کا رد ہے جو خدا تعالیٰ کی عام ربوبیت اور فیض کو اپنی ہی قوم تک محدو درکھتے