خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 77
خطبات مسرور جلد دہم ایک شعر میں فرمایا کہ 77 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012 ء اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب نشان آسمانی روحانی خزائن جلد 4 صفحہ (410) پس یہ دلدار کو راضی کرنے کی فکر اور خوف ہوتا ہے، اور یہ خوف جو ہے اُن کی توجہ دعاؤں اور ذکر الہی کی طرف مبذول کراتا ہے اور الّا بِذِكْرِ الله تطمينُ الْقُلُوبُ (الرعد: 29) کی آواز اُن کو تسلی دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی اُن کے لئے اطمینان قلب کا باعث بنتا ہے جو پرانے غموں کو بھی دور کر دیتا ہے اور آئندہ کے خوفوں کے دُور ہونے کی بھی اُن کو تسلی دلاتا ہے۔تقویٰ پر چلنے والوں کا خوف پیار اور محبت کا خوف ہوتا ہے۔تقویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایسا خوف یا ایسی تڑپ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے بے چین رکھے۔پس یہ بے چینی دل کو تقویت دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بناتی ہے۔دنیا دار کی بے چینی اس کے برعکس دلوں پر حملہ کرنے والی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والا محسنین میں شمار ہونے والا ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بنتا ہے۔پس دنیا دار اور دیندار کے غم اور خوف میں یہ فرق ہے۔پس ایک احمدی کو اپنی حالتوں میں ایسی پاک تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو اُ سے تقویٰ پر چلائے رکھنے والی ہو اور محسنین میں شمار کروانے والی ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب ہمیں ہر آن حاصل رہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کے خوفوں سے دور رکھے۔ہمارے غم اگر کوئی ہیں تو صرف ایسے ہوں جو خدا تعالیٰ کی محبت کو دل میں بسانے کے لئے ہوں۔اس سے اللہ تعالیٰ کے احسانات پھر مزید بڑھیں گے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کے معیار جب ہم حاصل کرنے والے ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ یقیناً ہمارے ساتھ ہوگا اور پھر اللہ تعالیٰ جب دیکھ رہا ہوگا کہ میرا بندہ محسن بن رہا ہے اور میری رضا کی خاطر میری صفات اپنا رہا ہے تو پھر میں کیوں نہ اُس پر احسانات کی بارش کر دوں۔اللہ تعالیٰ تو کئی گنا بڑھا کر دینے والا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کی بارش ہوتی ہے تو اس دنیا کی فکریں نہ صرف دور ہو جاتی ہیں بلکہ اُس کے احسانات اور انعامات کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایک مومن کو حقیقی تقوی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :