خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 76

خطبات مسرور جلد دهم 76 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012 ء وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِینَ (الاعراف: 197 )۔یعنی وہ نیکوں کا ساتھ دیتا ہے، اُن کا متولی ہوجاتا ہے۔فرمایا کہ ” حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں۔ان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ان کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتے ہیں۔ان کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتے ہیں۔اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے۔میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے تیار رہو۔ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی اس کا بچہ چھینے تو وہ غضب 66 سے جھپٹتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 680-681 ایڈ یشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ جن کا ولی اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے۔اور جن کا ولی خدا تعالیٰ ہو جاتا ہے اُن کے غم اور خوف تو ویسے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔آئندہ کے لئے نیک عمل کرنے کی طرف اُن کی توجہ ہو جاتی ہے۔گزشتہ کے اگر کوئی برے عمل ہیں تو اُن سے معافی ہو جاتی ہے۔انسان کو اپنے مستقبل کے بارے میں خوف رہتا ہے۔یہاں مثلاً بہت سارے اسائلم سیکرز (Asylum Seekers) آئے ہوئے ہیں ، اُن کو ہر وقت فکر پڑی رہتی ہے کہ پتہ نہیں ہمارا کیا فیصلہ ہوگا ، کیا بنے گا؟ بعض میں نے دیکھے ہیں، اس خوف کی وجہ سے کئی کئی کلو اپنا وزن کم کر چکے ہیں۔ملتے ہیں تو چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہوتی ہیں۔کوئی اپنے بزنس کے حالات کی وجہ سے پریشان ہے۔خوفزدہ رہتا ہے کہ پتہ نہیں آئندہ کیا ہوگا ؟ طلباء ہیں تو اپنے امتحانوں کی وجہ سے خوفزدہ رہتے ہیں۔غرض آئندہ آنے والی باتیں انسان کو ایک خوف کی حالت میں رکھتی ہیں جب تک کہ ان کے نتائج اُن پر ظاہر نہ ہوجائیں۔اسی طرح حزن ہے یا غم ہے جو گزری ہوئی باتوں کا ہوتا ہے۔جتنا بڑا غم ہو انسان اتنا ہی زیادہ غمگین رہتا ہے۔بعض دنیا دار اپنے کاروباروں کے نقصان میں اغم اتنی زیادہ رہتا اس قدر غمگین ہو جاتے ہیں کہ اُس کا مستقل روگ لگا لیتے ہیں۔بعض دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں، بعض پر دل کے ایسے حملے ہوتے ہیں کہ مستقل بستر پر لیٹ جاتے ہیں یا دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔بہر حال ایک متقی مومن اور احسان کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن کو نہ کوئی خوف ہوگا ، نہ غم۔ایک دیندار انسان جس کو خدا تعالیٰ کی صفات کا صحیح ادراک ہے اور اُس کے مطابق وہ اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے، وہ کبھی بھی دنیا کے غموں کو اپنا روگ نہیں بناتا۔بیشک نیک لوگوں کو خوف کی حالت بھی آتی ہے، غم کی حالت بھی آتی ہے لیکن وہ دنیا کے غم نہیں ہوتے ، وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے غم ہوتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کا خوف ہوتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے