خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 75

خطبات مسرور جلد دہم 75 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012ء دائرے میں ، اپنی استعدادوں کے مطابق اختیار کرنے کی کوشش کریں۔حقوق العباد کی ادائیگی کیلئے تیار رہیں تو یہ دنیا کی نعمتیں ہماری خادم بن جائیں گی۔ہماری زندگی میں ان دنیاوی چیزوں کی حیثیت ثانوی ہو جائے گی اور پھر وہی بات کہ جب خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر انسان یہ کام کر رہا ہوگا تو پھر تقویٰ میں ترقی ہو گی۔غرض کہ جس زاویے سے بھی ہم دیکھیں، خدا تعالیٰ کی رضا ہماری سوچوں کا محور ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو کہ احسان کرنے والوں کو وہ کس طرح نوازتا ہے ، قرآنِ کریم میں ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے بالی " مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ - وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 113) جان لو یہ بیچ ہے کہ جو بھی اپنے آپ کو خدا کے سپر د کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔اور اُن لوگوں پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میری ذات تمہارا محور ہو جائے گا،صرف میرے ارد گرد تم گھومو گے تو میری رضا کا حصول ہو جائے گا۔کلیۂ جب ایک مومن، متقی بندہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپر د کر دیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ خود اُس کا متکفل ہو جاتا ہے۔اس کے تمام غم ختم ہو جاتے ہیں۔اُس کی تمام فکر یں اور خوف بے حیثیت ہو جاتے ہیں۔جو شخص اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سپر د کرتے ہوئے اُس کے آگے خالص ہو کر جھکنے والا بن جائے محسن ہوتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتیں خدمت خلق اور خدمت انسانیت کے لئے صرف کر دے تو اُس کو کیا غم اور خوف ہوگا؟ یہ دونوں کام ایسے ہیں جو حقیقی تقویٰ کی پہچان ہیں۔بندے کو خدا تعالیٰ کے پیار کی آغوش میں لے آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلف حقوق ، ریاء ، عجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے اُن کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔لوگوں سے مروت ، خوشی خلقی ، ہمدردی سے پیش آوے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے۔اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں۔وہی اصل متقی ہوتے ہیں۔یعنی اگر ایک ایک خلق فردا فردا کسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں) اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقره:63) ہے۔اور اس کے بعد ان کو کیا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولی ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ فرماتا ہے