خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 796 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 796

خطبات مسرور جلد و هم 796 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء شروع کیا تو کہتے ہیں کہ جو خشک جگہ دل کی تھی) وہاں سے اتنا پانی جاری ہے جو ایک چشمے کی طرح جاری ہے، خشک ہونے تک نہیں آتا۔آنکھ کھل گئی اور اُسی دن بیعت کر لی اور ٹھنڈ پڑگئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود رجسٹر نمبر 7 صفحہ 189 تا 191۔از روایات حضرت نظام الدین صاحب) حضرت خیر دین صاحب ولد مستقیم صاحب، جنہوں نے 1906ء میں بیعت کی فرماتے ہیں کہ میں نے (اپنے ایک خواب کا پہلے ذکر کیا اُس کے بعد کہتے ہیں) ایک اور یہ خواب دیکھا کہ آپ نے جمعہ عید کی طرح پڑھایا ہے (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جمعہ عید کی طرح پڑھایا ہے) خطبہ کرنے کے لئے ایک کمرہ ہے۔قرآن شریف پکڑ کر آپ اُس کے اندر تشریف لے گئے۔وہ کمرہ مسجد کے داہنے کونے میں ہے۔آپ کے پیچھے چار سکھ بھی، جن کے کپڑے میلے کچیلے ہیں اور اُن کے پاس کوئی ہتھیار بھی معلوم ہوتا تھا مگر ظاہراً نظر نہیں آتا تھا، اندر داخل ہو گئے۔اُس وقت میرے دل میں یہ بات گزری کہ یہ شاید حضرت اقدس پر حملہ کریں گے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کرسی پر بیٹھے ہوئے میز پر قرآن شریف رکھ کر پڑھ رہے ہیں اور وہ چار سکھ پاس بیٹھ کر قرآن شریف سن رہے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ باہر نکلے۔اُس وقت اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔وہ اپنی آنکھوں کو پونچھتے آتے تھے۔مجھے اُس وقت یہ معلوم ہوتا تھا کہ اُن پر بہت رقت طاری ہو گئی ہے اور یہ مرید بن گئے۔وہ روتے بھی ہیں اور پنجابی میں یہ الفاظ بھی کہتے ہیں کہ چندہ ایویں تے نئیں ناں منگدا گویا کہ وہ معتقد ہو گئے ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود رجسٹر نمبر 7 صفحہ 161 - از روایات حضرت خیر دین صاحب) حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر جنہوں نے 1901ء میں بیعت کی تھی بیان کرتے ہیں کہ 1902ء میں حضور کی کسی ایک تحریر کے اندر ” میری نبوت“ اور ” میری رسالت کے الفاظ تھے۔(یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی تحریر انہوں نے پڑھی جس میں یہ لکھا ہوا تھا ، یہ الفاظ تھے کہ ” میری نبوت اور ”میری رسالت) کہتے ہیں اس کو دیکھ کر میری طبیعت میں قبض پیدا ہوئی ( کہ یہ نبوت اور رسالت کو اس طرح واضح طور پر کیوں لکھا ہوا ہے؟ کہتے ہیں پھر میں نے کسی سے دو تین روز تک بات نہیں کی۔آخر تیسرے دن مجھے الہاماً بتایا گیا کہ لا ريب فيه “۔اب اس کے بعد ( کہتے ہیں کہ اس الہام کے بعد ) میں اودھ میں ملازمت کے سلسلے میں چلا گیا اور مطالعہ کا موقع ملا۔اور خدا کے فضل سے علم میں اضافہ ہوکر وہ وقت آ گیا جب اللہ تعالیٰ قادیان لے آیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود رجسٹرنمبر 11 صفحہ 256 از روایات حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر)