خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 787
خطبات مسر در جلد دہم 787 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012ء دن بدن پھیل رہا ہے۔مختلف مذاہب اور عقائد کو اکٹھا کرنے کیلئے آپ کا نمونہ نہ صرف نظریاتی اعتبار سے بلکہ عملی طور پر بھی بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس اچھا موقع ہے کہ ہم اس پیغام کو پھیلانے پر زور دیں۔مجھے خوشی ہے کہ یورپین پارلیمنٹیرینز بھی اس پیغام کا حصہ بن رہے ہیں۔پھر (Claude Morales (MEP ممبر یورپین پارلیمنٹ نے کہا کہ بالعموم یورپین پارلیمنٹ کی ہونے والی میٹنگز میں حاضرین کی اتنی تعداد نہیں ہوتی جتنی آج یہاں پر نظر آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آجکل دنیا کے حالات اس طرف جارہے ہیں کہ ہمیں احمد یہ جماعت کے امن اور آشتی کے نظریات کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے کیلئے برداشت پیدا کرنے اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کی شدید ضرورت ہے۔یہ نظریات صرف کتابی باتیں نہیں ہیں بلکہ آجکل کے دور میں ان پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔انہوں نے میرے بارے میں کہا کہ اُن کا یہاں آنا اس بات کی علامت ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ احمد یہ جماعت کو مزید سمجھنے کی ضرورت ہے۔ان کے امن اور ایک دوسرے کے لئے برداشت کے متعلق نظریات اور پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ مذہب و ملت کی تفریق کے بغیر انسانیت کی خدمت کرنا بھی اس جماعت کا خاصہ ہے۔ان سب باتوں کو مزید سمجھنے کی ضرورت ہے۔وہاں جو مختلف پریس والے آئے ہوئے تھے، اس میں بی بی سی نیوز فیتھ میٹرز ، سپینش میڈیا اکو یو یورپا (Aqui Europa)، پھر تیسرے مالٹا کا فیورٹ چینل تھا۔جیو ٹی وی اور ڈیلی جنگ کے نمائندے تھے۔پیرس کے دلی میگزین کے نمائندے تھے۔المنار ریڈیو بیلجیئم تھا۔ٹرکش میڈیا اب ھبر (Abhaber) تھا۔فرنچ اکیڈیمک ریسرچر۔اونر آف جسٹس فرسٹ آف دی ورلڈ۔پکار نیوز یوکے۔اسی طرح ہیں ایسوسی ایٹڈ (Associated) پریس پاکستان۔اور پھر اس کے علاوہ یورپین پارلیمنٹ کے آفیشل فوٹوگرافر ، بیلجیئم کے ٹی وی اور ریڈیو کے نمائندگان اور بعض دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے میڈیا کے نمائندے بھی وہاں موجود تھے۔سی این این نے بھی ایک حصہ کا حوالہ دے کر اپنی ویب سائٹ پر اُس کے اوپر لکھا تھا Quote of the day۔اُس کو حوالہ پسند آیا تھا۔اس میں ایک ہونے کا ذکر تھا۔جرمنی کے نیشنل ممبر آف پارلیمنٹ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطاب انتہائی متاثر کن تھا۔اس نے ہم پر گہرا اثر کیا ہے۔میرا خیال ہے انہوں نے یہ ہیمبرگ میں کہا تھا۔لیکن بہر حال میرے متعلق کہتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے برٹش پارلیمنٹ اور امریکن کیپیٹل ہل میں خطاب کئے ہیں،