خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 587 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 587

خطبات مسر در جلد دہم 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء بہت سے فتنوں کی بنیاد ڈالتے ہیں۔اور وہ ضرور تو ہین کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس نبی کی شان میں نہایت گستاخی کے الفاظ بولتے ہیں اور اپنے کلمات کو گالیوں کی حد تک پہنچاتے ہیں اور صلح کاری اور عامہ خلائق کے امن میں فتور ڈالتے ہیں۔حالانکہ یہ خیال ان کا بالکل غلط ہوتا ہے۔اور وہ اپنے گستاخانہ اقوال میں خدا کی نظر میں ظالم ہوتے ہیں۔خدا جو رحیم و کریم ہے وہ ہر گز پسند نہیں کرتا جو ایک جھوٹے کو ناحق کا فروغ دے کر اور اس کے مذہب کی جڑ جما کر لوگوں کو دھو کہ میں ڈالے۔اور نہ جائز رکھتا ہے کہ ایک شخص باوجود مفتری اور کذاب ہونے کے دنیا کی نظر میں سچے نبیوں کا ہم پلہ ہو جائے۔پس یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے۔خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑ بادلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی۔اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آگئی ہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔مگر افسوس کہ ہمارے مخالف ہم سے یہ برتاؤ نہیں کر سکتے اور خدا کا یہ پاک اور غیر متبدل قانون ان کو یاد نہیں کہ وہ جھوٹے نبی کو وہ برکت اور عزت نہیں دیتا جو بچے کو دیتا ہے اور جھوٹے نبی کا مذہب جڑ نہیں پکڑتا اور نہ عمر پاتا ہے جیسا کہ بچے کا جڑ پکڑتا اور عمر پاتا ہے۔پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر برا کہتے رہتے ہیں ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں۔کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں۔بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو برا کہا جائے۔اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہئے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں۔اور نہ یہ کہ اس کو برے الفاظ سے یاد کر یں۔بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستورالعمل پر اعتراض کریں“ ( یعنی اگر وہ غلطیاں اُس قوم میں ہیں تو اُس قوم کی اُن غلطیوں پر اعتراض کریں، نہ کہ نبیوں پر ) فرمایا اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کروڑہا انسانوں میں عزت پا گیا اور صد ہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے یہی پختہ دلیل اس کے منجانب اللہ ہونے کی ہے۔اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔مفتری کو عزت دینا اور کروڑ ہا بندوں میں اس کے مذہب کو پھیلانا اور زمانہ دراز تک