خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 586

خطبات مسر در جلد دہم کرے اور کھلی چھٹی دے دے۔586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء (ماخوذ از تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 257-258) پس انبیاء بھی جب خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام لانے کا دعوی کرتے ہیں اور ان کی جماعتیں بھی بڑھ رہی ہوتی ہیں تو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ یہ جماعت یا یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوؤں کا احترام کرنا چاہئے تا کہ دنیا کا امن قائم رہے۔اس بارے میں ایک حصہ جس میں آپ نے فرمایا کہ کس طرح امن ہونا چاہئے اور انبیاء کا کیا مقام ہوتا ہے، وہ میں اس وقت پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: سو یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے ( یعنی وہی قانون کہ اگر دنیاوی حکومتیں کسی ایسی بات کا اپنی طرف منسوب ہونا برداشت نہیں کرتیں جو نہیں کہی گئی تو اللہ تعالیٰ کس طرح برداشت کرے گا؟) فرمایا ” سو یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے کہ وہ نبوت کے جھوٹا دعوی کرنے والے کو مہلت نہیں دیتا۔بلکہ ایسا شخص جلد پکڑا جاتا اور اپنی سزا کو پہنچ جاتا ہے۔اس قاعدہ کے لحاظ سے ہمیں چاہئے کہ ہم ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو سچا سمجھیں جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا اور پھر وہ دعوی ان کا جڑ پکڑ گیا اور ان کا مذہب دنیا میں پھیل گیا اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پا گیا اور اگر ہم ان کے مذہب کی کتابوں میں غلطیاں پائیں یا اس مذہب کے پابندوں کو بدچلنیوں میں گرفتار مشاہدہ کریں تو ہمیں نہیں چاہئے کہ وہ سب داغ ملالت ان مذاہب کے بانیوں پر لگاویں۔کیونکہ کتابوں کا محرف ہوجاناممکن ہے۔اجتہادی غلطیوں کا تفسیروں میں داخل ہو جا ناممکن ہے۔لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص کھلا کھلا خدا پر افتراء کرے اور کہے کہ میں اس کا نبی ہوں اور اپنا کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔حالانکہ وہ نہ نبی ہو اور نہ اس کا کلام خدا کا کلام ہو۔اور پھر خدا اس کو سیچوں کی طرح مہلت دے۔( یہ سب کچھ ہو اور پھر خدا اس کو سچوں کی طرح مہلت دے ) اور سیچوں کی طرح اس کی قبولیت پھیلائے۔لہذا یہ اصول نہایت صحیح اور نہایت مبارک اور باوجود اس کے صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا ہے کہ ہم ایسے تمام نبیوں کو سچے نبی قرار دیں جن کا مذہب جڑ پکڑ گیا اور عمر پا گیا اور کروڑ ہا لوگ اس مذہب میں آگئے۔یہ اصول نہایت نیک اصول ہے اور اگر اس اصل کی تمام دنیا پابند ہو جائے تو ہزاروں فساد اور توہین مذہب جو مخالف امن عامہ خلائق ہیں اٹھ جائیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ کسی مذہب کے پابندوں کو ایک ایسے شخص کا پیرو خیال کرتے ہیں جو ان کی دانست میں دراصل وہ کا ذب اور مفتری ہے تو وہ اس خیال۔