خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 36

خطبات مسرور جلد دہم 36 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012 ء بندے ہیں۔کسی پر ظلم نہ کرو۔نہ تیزی کرو۔نہ کسی کو حقارت سے دیکھو۔جماعت میں اگر ایک آدمی گندہ ہے تو وہ سب کو گندہ کر دیتا ہے۔اگر حرارت کی طرف تمہاری طبیعت کا میلان ہو ( یعنی غصہ جلدی آتا ہو) ''تو پھر اپنے دل کو ٹولو کہ یہ حرارت کس چشمہ سے نکلی ہے۔( کہ اس غصے کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا ” یہ مقام بہت ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 6 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) نازک ہے۔“ غصہ ایک فطری چیز ہے لیکن ایک مومن میں مغلوب الغضب ہو کے نہیں آنا چاہئے بلکہ جہاں بھی غصہ آئے اصلاح کی غرض سے آنا چاہئے۔ایک جگہ فرمایا کہ: 9966 ہر ایک سے نیک سلوک کرو۔۔برادری کے حقوق ہیں۔ان سے بھی نیک سلوک کرنا چاہیے۔البتہ اُن باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں ان سے الگ رہنا چاہیے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 304 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کس میں ہے اور اُس کے معیار کیا ہونے چاہئیں یا کس طرح کا ہونا چاہیے۔آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ) کا خوف اسی میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔پھر جب دیکھے کہ اس کا قول و فعل برابر نہیں تو سمجھ لے کہ وہ مور د غضب الہی ہو گا۔جو دل نا پاک ہے خواہ قول کتنا ہی پاک ہو وہ دل خدا کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا بلکہ خدا کا غضب مشتعل ہوگا۔پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھل دار درخت ہو جائے۔پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے؟ اور اس کی باطنی حالت کیسی ہے؟ اگر ہماری جماعت بھی خدا نخواستہ ایسی ہے کہ اس کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہوگا۔فرمایا: اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت جو دل سے خالی ہے اور زبانی دعوے کرتی ہے۔وہ غنی ہے، وہ پرواہ نہیں کرتا۔فرمایا کہ بدر کی فتح کی پیش گوئی ہوچکی تھی ، ہر طرح فتح کی امید تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رو رو کر دعا مانگتے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے۔یعنی ممکن ہے کہ وعدہ الہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔ملفوظات جلد 1 صفحہ 8 ایڈیشن 2003 مطبوعه ر بوه) پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن سے اللہ تعالیٰ کے کامیابی کے وعدے تھے ، حدیث میں آتا ہے کہ وہ بھی بدر کے موقع پر اس طرح شدت سے روتے تھے کہ آپ کے کندھے سے چادر اتر جاتی