خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد دهم 53 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012 ء نام بتا دیتے اور پھر پورا تعارف کروایا کرتے۔ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کرتے تھے کہ کس محفل میں کس طرح کی کتب دینا مناسب رہے گا، کس قسم کا لٹریچر دینا مناسب رہے گا۔ان کے حلقہ احباب میں سیاستدان، ادیب، شاعر، ڈاکٹر ، کالج اور یونیورسٹیز کے اساتذہ اور طلباء ماہرین اقتصادیات نیز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین شامل تھے۔راویل صاحب خود بھی ایک بہت اچھے شاعر تھے۔بہت اچھے ادیب تھے۔جرنلسٹ تھے۔مترجم تھے اور ایک داعی الی اللہ تھے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ہوا تھا۔ان کے جاننے والوں اور سراہنے والوں کا ایک وسیع طبقہ ہے۔راویل صاحب کے ذریعے رشیا اور سابق روسی ریاستوں میں ایسے لوگوں تک جماعت احمدیہ یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا ہے کہ جہاں تک عام طور پر ہمارے مبلغین اور معلمین کی رسائی نہ ہو سکتی اور اگر ہوتی بھی تو بہت دیر کے بعد۔جب آپ ماسکو جاتے تو اکثر علمی وادبی شاعری محافل میں حصہ لیتے تھے اور اس قسم کے پروگراموں کے دوران ہمیشہ کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کا ذکر کر دیا کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں یعنی احمدیوں کو پہلے ہی کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ لوگ آج فلاں جگہ اتنے بجے جماعتی تعارفی کتب میں سے فلاں فلاں کتب کی اتنی تعداد لے کر پہنچ جائیں اور جو بھی پروگرام ہوتا تھا اُس کے آخر میں لوگ اُن کے جماعت کا تعارف کروانے کے بعد ضرور وہ کتب خرید لیا کرتے تھے پالے لیتے تھے۔جب سے یہاں لندن میں رشین ڈیسک کا قیام ہوا ہے ، راویل صاحب نہایت محنت ، اخلاص اور جوش کے ساتھ کام کر رہے تھے۔کام کے دوران انہیں نہ بھوک کی فکر ہوتی تھی ، نہ کسی اور چیز کی پرواہ ہوتی تھی۔ساری توجہ جماعت کے کاموں کی تکمیل کی طرف ہوتی تھی اور کبھی کوئی کام ادھور انہیں چھوڑا۔ان کے ساتھ کام کرنے والے مبلغین کہتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ کہا کرتے تھے کہ تھک گئے ہیں، ریسٹ (Rest) کر لیں تو ہنس کے کہتے تھے کہ تم لوگ بڑی جلدی تھک گئے ہو۔کیونکہ وہ خطبات جمعہ کی رشین ڈبنگ (Dubbing) کرواتے تھے اس لئے ان کو اس کام کی ایک فکر لگی رہتی تھی۔دو سال پہلے یہ کام بہت وسیع پیمانے پر شروع ہوا اور ایم ٹی اے پر اور اسی طرح انٹرنیٹ پر خطبہ آنے لگا۔چنانچہ اپنے ساتھیوں سے ہفتہ کے روز ضرور پوچھا کرتے تھے کہ کیا آپ نے خطبہ کا ترجمہ مکمل کر لیا ہے؟ یا کب تک کر لو گے؟ اور پھر یہ پوچھتے ، کیا اتوار کی صبح یا ظہر سے پہلے ڈبنگ کروا سکو گے ؟ بعض دفعہ تو جمعہ کے دن شام کو ہی پوچھ لیتے تھے کہ کب تک ترجمه مکمل کر لو گے؟ غرضیکہ جبتک وہ خطبہ کی ڈبنگ مکمل نہ کروا لیتے ، بے چین اور بے قرار رہتے تھے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں بھی اُن کی مصروفیت ، محنت اور لگن ایک الگ رنگ رکھتی تھی۔تینوں