خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 449
خطبات مسرور جلد دہم 449 30 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 / جولائی 2012ء بمطابق 27 روفا 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم آجکل رمضان کے مبارک مہینہ سے گزررہے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ جو اس بابرکت مہینہ سے فائدہ اُٹھائیں گے۔اور یہ برکتیں روزے کی حقیقت کو جاننے اور اس سے بھر پور فائدہ اُٹھانے سے ملتی ہیں۔بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد برحق ہے کہ رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شهر رمضان حدیث نمبر 2495) لیکن کیا ہر ایک کے لئے یہ دروازے کھول دیئے جاتے ہیں؟ کیا ہر ایک کے شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے؟ کیا ہر ایک کے لئے دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں؟ یقیناً ہر ایک کے لئے تو ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ یہاں مومنین کو مخاطب کیا۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ظاہری ایمان لانے سے، مسلمان ہونے سے اور روزہ رکھنے سے یہ فیض انسان حاصل کرلے گا اور کیا صرف اتنا ہی ہے۔اگر صرف اتنا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بار بار ایمان لانے کے ساتھ اعمالِ صالحہ بجالانے کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی ہے، بہت زیادہ تلقین کی ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو کسی بھی انسان کے لئے چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، اگر وہ نیک اعمال بجالانے والا ہے تو نیک جزا کا بتایا ہے۔پس یقیناً صرف روزے رکھنا یا رمضان کے مہینہ میں سے گزرنا انسان کو جنت کا وارث نہیں بنا دیتا بلکہ اس کے ساتھ کچھ لوازمات بھی ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔کچھ شرائط بھی ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔اعمالِ صالحہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے جنہیں بجالانا ایک مومن کا فرض بھی ہے۔ورنہ صبح