خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 385
خطبات مسرور جلد دہم 385 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء جہاں دنیاوی دلچسپی کے سامان کر رہے ہیں، وہاں خدا کی رضا کے حصول کے لئے ، جہاں بھی ہوں، پوری فیملی وہاں پر باجماعت نماز ادا کرے۔میرا تو یہ تجربہ ہے اور بہت سے لوگوں کے یہ تجربے ہیں جو مجھے بتاتے ہیں کہ تفریح کی جگہوں پر جب اس طرح میاں بیوی اور بچوں نے نماز کے وقت نماز با جماعت ادا کی توارد گرد کے لوگوں میں دلچسپی پیدا ہوئی اور اُن کو دیکھنے لگے اور پھر تبلیغ کے راستے کھلتے ہیں، تعارف حاصل ہوتا ہے۔عموماً عام دنیا دار کو مسلمانوں کے بارے میں یہی تصور ہے کہ مسلمانوں میں نماز وہی پڑھتے ہیں جو شدت پسند ہیں۔جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ تفریح کرنے والے بچے اور بڑے نماز پڑھ رہے ہیں اور لباس بھی اُن کے یہاں کے لوگوں کے لباس کے مطابق پہنے ہوئے ہیں، لیکن عبادت میں انہماک ہے تو ضرور توجہ پیدا ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ کئی ایسے ہیں جو اپنے تجربات بیان کرتے ہیں کہ کس طرح نماز کی وجہ سے بعض غیروں کی اُن کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور یوں تبلیغ کے راستے کھلے۔پس کسی قسم کے احساس کمتری میں ہمیں مبتلا نہیں ہونا چاہئے ، نہ بچوں کو، نہ بڑوں کو۔ہمارا دعوی ہے کہ دنیا میں دینی اور روحانی انقلاب ہم نے پیدا کرنا ہے، تو یہ دینی اور روحانی انقلاب وہی لوگ پیدا کر سکتے ہیں جو ہر قسم کے احساس کمتری سے آزاد ہوں اور اپنے اندر سب سے پہلے دینی اور روحانی انقلاب پیدا کرنے والے ہوں۔اور یہ دینی اور روحانی انقلاب بغیر عبادت کا حق ادا کئے پیدا نہیں ہو سکتا اور عبادت کے حق کے لئے سب سے اہم اور ضروری چیز نماز ہے۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت کریں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔حَفِظُوا عَلَى الصَّلَوتِ (البقرة:239) اپنی نمازوں کی حفاظت کرو۔حفظ کے معنی ہیں کہ باقاعدگی اختیار کرنا اور پھر اُس کی نگرانی کرنا۔اور پھر فرمایا ہر اُس نماز کی خاص طور پر نگرانی کرو اور اُس کی حفاظت کرو جو صلوۃ وسطی ہے، یعنی جو نماز تمہاری مصروفیات کے درمیان میں آتی ہے، یا وہ نماز جو کسی بھی وجہ سے، دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے، وقت پر اور اہتمام کے ساتھ ادا نہ کی جا سکے اُس کی بہر حال خاص طور پر حفاظت کرنی ہے۔کیونکہ نمازوں کی سستی تمہیں فرمانبرداروں کی فہرست سے باہر نکال دیتی ہے۔اس لئے نمازوں کی حفاظت کی طرف خدا تعالیٰ توجہ دلاتا ہے اور پھر خاص طور پر ان نمازوں کی حفاظت اور ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہے جو تمہارے نفس کی ستی اور دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے ادا نہیں ہور ہیں یا اُن کا حق ادا کرتے ہوئے ادا نہیں ہو رہی۔بعض جلدی جلدی نماز پڑھ لیتے ہیں یہ نماز کا حق ادا کرنا نہیں ہے۔کیونکہ آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقُومُوا لِلَّهِ قُنِتِينَ (البقرة: 239)