خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 279

خطبات مسر در جلد دہم 279 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012 ء نے توفیق دی تو صبح جب آپ باہر سیر کو نکلیں گے تو ہم آپ کے گرد بازوؤں کا حلقہ بنائیں گے۔اس طرح ہم حضور کا دیدار ا چھی طرح کر سکیں گے۔اصل مقصد ایک پہرہ بھی تھا ایک دیدار بھی تھا۔صبح جب ہم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو تمام لوگ حضور کے انتظار میں بازار میں اکٹھے ہونے شروع ہو گئے۔یہ کمل پتہ تو نہیں تھا کہ حضور کس طرف باہر سیر کو تشریف لے جائیں گے۔لیکن جس طرف سے ذراسی بھی آواز اُٹھتی کہ آپ اُس طرف باہر سیر کو تشریف لے جائیں گے لوگ اس طرف ہی پروانہ وار دوڑ پڑتے۔کچھ دیر اسی طرح ہی چہل پہل بنی رہی۔آخر پتہ لگا کہ حضور شمال کی جانب ریتی چھلے کی طرف باہر سیر کو تشریف لے جائیں گے۔ہم لوگوں نے بھی جو آگے ہی منتظر تھے، کپڑے وغیرہ کس لئے اور تیار ہو گئے کہ جس وقت حضور بازار سے باہر دروازے میں تشریف لے آئیں گے اُسی وقت ہم بازؤوں کا حلقہ بنا کر آپ کو بیچ میں لے لیں گے۔ہم اس تیاری میں تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ آپ ایک بہت بڑے جم غفیر کے درمیان آ رہے ہیں۔بہت زیادہ لوگ ہیں اور اس جمگھٹے نے ہمارے ارادے کو خاک میں ملا دیا اور روندتا ہوا آگے چلا گیا۔اتنارش تھا کہ ہم قریب پہنچ ہی نہ سکے۔ریتی چھلے کے بڑھ کے مغرب کی طرف ایک لسوڑی کا درخت تھا، آپ اس لسوڑی کے درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور وہاں سے آپ لوگوں سے مصافحہ کرنے لگ پڑے۔کسی نے کہا کہ حضرت صاحب کے لئے کرسی لائی جاوے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ لوگ بڑی کثرت میں تیرے پاس آئیں گے۔لیکن یہ پنجابی کا الہام ہے کہ ) تو اگئیں نہ اور تھکیں نہ۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 1 صفحہ نمبر 71 روایت حضرت چوہدری غلام رسول صاحب بسراء ) یعنی گھبرانا بھی نہیں ہے، بیزار بھی نہیں ہونا اور لوگوں کے رش سے اور ملنے ملانے سے تھکنا بھی نہیں ہے۔وہیں پھر ان کو بھی موقع ملا۔پھر حضرت ڈاکٹر عمر دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے تو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مصافحہ کی اس قدر پیاس تھی کہ کئی دفعہ ہجوم کی لاتوں سے گزرکر مصافحہ کرتا رہتا پھر بھی طبیعت سیر نہ ہوتی۔( بعض دفعہ دھکے بھی پڑتے۔مشکل بھی پڑتی لیکن بہر حال کوشش کر کے مصافحے کی کوشش کرتے)۔(رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 1 صفحہ نمبر 184 روایت حضرت ڈاکٹر عمر الدین صاحب) حضرت ڈاکٹر عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”جب میں قادیان بٹالہ سے جا رہا تھا تو اُسی وقت ایک بوڑھے نابینا احمدی بھی قادیان جانے والے تھے۔انہوں نے کہا کہ کسی یکہ پر کچھ جگہ میرے لئے ہے؟ اُس پر میں نے کہا کہ آپ ہمارے یکہ میں آجائیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں میرے پاس ایک