خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 278
خطبات مسرور جلد دہم 278 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012ء ( پس اس بات پر اللہ تعالیٰ کی جو عبادت اور مدد ہے، اس کی جستجو بھی ہونی چاہئے اور اس کے لئے کوشش بھی ہونی چاہئے اور یہی اصل چیز ہے جو اعلیٰ معیاروں کی طرف لے کر جاتی ہے اور اس مقصد کو پورا کرتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا مقصد ہے۔) حضرت صاحب دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”غالباً 1904ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق احمد یہ جماعت لاہور کو اطلاع ملی کہ حضور فلاں گاڑی لاہور پہنچ رہے ہیں۔ہم لوگ حضور کی پیشوائی کے لئے ریلوے اسٹیشن پر گئے۔اُن دنوں دو گھوڑافٹن گاڑی کا بہت رواج تھا۔ہم نے فٹن تیار کر دی۔جب حضور سوار ہوئے تو ہم نوجوانوں نے جیسا کہ عام رواج تھا ( یہ اخلاص و وفا کا نمونہ ہے ) گاڑی کے گھوڑے کھلوائے اور فٹن کو خود کھینچنا چاہا۔(ان لوگوں نے بگی سے گھوڑے علیحدہ کئے اور کوشش کی کہ خود کھینچیں۔) حضور نے ہمارے اس فعل کو دیکھ کر فرمایا کہ ہم انسانوں کو ترقی دے کر اعلیٰ مدارج کے انسان بنانے آئے ہیں۔نہ کہ برعکس اس کے انسانوں کو گرا کر حیوان بناتے ہیں کہ وہ گاڑی کھینچنے کا کام دیں۔مفہوم یہ تھا، الفاظ شاید کم و بیش ہوں۔خیر ہم خدام نے فوراً اپنے فعل کو ترک کر دیا اور گھوڑے گاڑی لے کر چل دیئے۔( گھوڑے آگے لگائے اور وہ اُن کو لے کر چل دیئے۔میں فوراً فٹن کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور حضور کو تمام راستہ چھتری تانے آیا گویا اس طرح مجھے چھتر برداری کی خدمت کرنے کا موقع ملا جس پر مجھے فخر ہے کہ حضور کا چھتر بردار ہوں۔“ رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 1 صفحہ نمبر 10 روایت حضرت صاحب دین صاحب) حضرت چوہدری غلام رسول صاحب بسراء بیان کرتے ہیں کہ دسمبر 1907ء جلسہ سالانہ کا واقعہ ہے کہ جمعرات کی شام کو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صبح باہر سیر کو جائیں گے۔اُس وقت دستور یہ تھا کہ جب بہت بھیڑ ہو جاتی تھی تو آپ کے گرد بازؤوں کا حلقہ باندھ دیتے تھے۔( یہ واقعہ شاید پہلے بھی کہیں بیان ہو چکا ہے، کسی جگہ میں نے بیان کیا لیکن بہر حال اس سے پھر اُن لوگوں کا ذوق اور شوق اور پھر خدمت اور ایک نظر آپ کو دیکھنے کا اظہار ہوتا ہے، کس طرح لوگ حلقہ باندھ لیتے تھے۔کہتے ہیں کہ ) جب بہت بھیڑ ہو جاتی تھی تو آپ کے گرد بازؤوں کا حلقہ باندھ دیتے تھے اور آپ اس حلقے کے بیچ چلتے تھے۔(ایک دائرے کی شکل میں لوگ ہاتھ پکڑ کے آپ کو بیچ میں لے لیتے تھے تاکہ زیادہ رش کی وجہ سے دھکے نہ لگیں۔چنانچہ میں نے اپنے ہمرائیوں مولوی غلام محمد گوندل امیر جماعت احمد یہ چک نمبر 99 شمالی ، چوہدری میاں خانصاحب گوندل اور چوہدری محمد خانصاحب گوندل مرحوم سے صلاح کی کہ اگر خدا