خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد دہم کی ضرورت ہے۔187 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء پھر نویں شرط یہ ہے : ”یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 160 اشتہار تکمیل تبلیغ ، اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وو یا درکھو کہ خدا تعالیٰ نیکی کو بہت پسند کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق سے ہمدردی کی جاوے۔اگر وہ بدی کو پسند کرتا تو بدی کی تاکید کرتا مگر اللہ تعالیٰ کی شان اس سے پاک ہے ( سبحانہ تعالی شانه۔۔۔۔۔۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو، ہمدردی کرو اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔وَ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينًا وَ يَتِمَّا وَ آسِيرًا (الدھر: 9) وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفار ہی ہوتے تھے۔اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا ہے۔میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: ” مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں آئے دن یہ دیکھتا اور سنتاہوں کہ کسی سے یہ سرزد ہوا اور کسی سے وہ۔میری طبیعت ان باتوں سے خوش نہیں ہوتی۔فرماتے ہیں میں جماعت کو ابھی اس بچہ کی طرح پاتا ہوں جو دو قدم اُٹھتا ہے تو چار قدم گرتا ہے لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو کامل کر دے گا۔اس لیے تم بھی کوشش، تدبیر، مجاہدہ اور دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بنتا ہی نہیں۔جب اس کا فضل ہوتا ہے تو وہ ساری راہیں کھول دیتا ہے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 219 ایڈ یشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں : ” اس کے بندوں پر رحم کرو اور اُن پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو۔اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔اور کسی پر تکبر نہ کر و گواپنا ماتحت ہو۔اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ بڑے ہوکر چھوٹوں پر رحم کرو نہ ان کی تحقیر۔اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔اور امیر ہوکر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے اُن پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 11-12)