خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 188
خطبات مسرور جلد دہم 188 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء پھر دسویں شرط یہ ہے : یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض اللہ باقر ار طاعت در معروف باندھ کر اُس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 160 اشتہار تکمیل تبلیغ ،اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں۔‘ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں فرمارہے ہیں ) ” اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل بھی منع کرتی ہے۔اور پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور نا پاک کو حرام ٹھہراتا ہے اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اُس کو قوت دیں گے۔اور اُس کی مدد کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اُس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 420) یعنی یہ شرعی احکامات ہیں اور یہی معروف احکام ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے اور ایک انسان کی دنیاوی طوقوں سے نجات بھی اسی میں ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے کہ جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اُس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اُس کے پاس نہیں۔سچا شفیع میں ہوں جو اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ ہوں ) اور اس کا ظل جس کو اس زمانے کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اس کی بہت ہی تحقیر کی ، یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم “ دافع البلاء روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233) پھر آپ فرماتے ہیں۔اب ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آخر میں بیان ہے اور تم اے میرے عزیز و! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شا خو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی ، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔“ ( پھر فرماتے ہیں اس بارے میں کہ کون عزیز ہیں؟) فرمایا کہ ”میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون ہے؟ وہی جو مجھے