خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 88
خطبات مسر در جلد دہم 88 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء ہو، تب تعریف کی جاتی ہے یا کسی کا احسان ہو کسی پر ، تب اُس کی تعریف کی جاتی ہے اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوں تو پھر اس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے۔اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اس کی بندگی کریں۔اس نے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔سواسی غرض سے اس سورۃ کو الحمد للہ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 247) پس اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے جس میں حسن و احسان جمع ہیں اس لئے الحمد للہ سے شروع کیا گیا۔اس میں بڑی وضاحت سے ایک جگہ آپ نے بیان فرمایا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حسن کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان کیا ہیں لیکن وہ ایک مضمون علیحدہ ہے یہاں صرف مختصر بتا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا حسن یہ ہے کہ تمام قسم کی خوبیاں اُس میں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ وہ تمام صفات کاملہ کا جامع ہے ، تمام صفات اُس میں جمع ہیں اور اُس کے احسان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چار بڑے بنیادی اصول اس سورۃ کے مطابق بتائے ہیں جن کا مختصر ذکر کرتا ہوں۔اُس کا پہلا احسان یہ ہے کہ وہ رب ہے، یعنی پیدا کر کے پھر اُس کے مطابق اُس کے مطلوبہ مقام تک کی انتہا تک لے جاتا ہے، اُس کی پرورش کرتا ہے۔دوسرا احسان یہ ہے کہ اُس کی صفت رحمانیت ہے جو دوسرا احسان ہے،جس کے مطابق اُس نے ہر جاندار کو طاقتیں عطا فرمائی ہیں اور اُس کی ضروریات کے مطابق اُس کی بقا کے سامان مہیا فرمائے ہیں۔اور انسان کو اس میں سے سب سے زیادہ حصہ دیا ہے۔تیسرا احسان یہ ہے کہ جو اُس کی صفت رحیمیت ہے کہ دعاؤں اور اعمالِ صالحہ کو قبول کرتا ہے اور بلاؤں اور آفات سے محفوظ رکھتا ہے، ان کا بدلہ دیتا ہے۔چوتھا احسان اُس کا مالکیت یوم الدین ہے جس کے تحت وہ اپنے خاص فضل سے نوازتا ہے جس طرح چاہے اور جتنا چاہے عطا فرماتا ہے۔اعمال کو پھل لگاتا ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے فضل سے لگتے ہیں۔لصلا (ماخوذ از ایام اصبح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 248-251) تو یہ چار احسان ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے ہیں جن کا مختصر ذکر میں نے کیا ہے۔پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ رب العلمین میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر