خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 86

خطبات مسر در جلد دہم 86 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012ء تعریفوں کا اللہ تعالیٰ بھی مستحق ہے اور وہ اُس میں جمع ہیں، آپ فرماتے ہیں: ” اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ جو معرفت باری تعالیٰ کے معاملہ میں اپنے بد اعمال سے ہلاک ہوا یا اس کے سوا کسی اور کو معبود بنا لیا تو سمجھو کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے کمالات کی طرف سے اپنی توجہ پھیر لینے، اس کے عجائبات کا نظارہ نہ کرنے اور جو امور اس کی شایان شان ہیں ان سے باطل پرستوں کی طرح غفلت برتنے کے نتیجہ میں ہلاک ہو گیا۔( اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں کی ، کسی اور کو معبود بنا لیا، کسی شخص کو خدا تعالیٰ کے کمالات کا حاصل کرنے والا بنالیا تو وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ کی جوشان ہے وہ پوری طرح اُس کے سامنے نہیں آئی مخفی ہوگئی یا دوسرے کو اُس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر کر لیا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ، یہی کہ ایسا شخص ہلاک ہو جائے گا۔فرمایا ” کیا تو نصاریٰ کو نہیں دیکھتا کہ انہیں توحید کی دعوت دی گئی تو انہیں اسی بیماری نے ہلاک کیا اور ان کے گمراہ کرنے والے نفس اور پھسلا دینے والی خواہشات نے ان کے لئے ( یہ گمراہ کن ) خیال خوبصورت کر کے دکھا دیا اور انہوں نے ایک (عاجز) بندے کو خدا بنا لیا۔اور گمراہی اور جہالت کی شراب پی لی۔اللہ تعالیٰ کے کمال اور اس کی صفات ذاتیہ کو بھول گئے اور اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراش لیں۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے شایان شان کمالات پر گہری نظر ڈالتے تو ان کی عقل خطا نہ کرتی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے نہ ہو جاتے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ جل شانہ کی معرفت کے بارہ میں غلطی سے بچانے والا قانون یہ ہے کہ اس کے کمالات پر پورا غور کیا جائے اور اس کی ذات کے لائق صفات کی جستجو کی جائے“ اس کی صفات کا ادراک حاصل کیا جائے ، اُس کو تلاش کیا جائے ) اور ان صفات کا ورد کیا جائے (بار بار دہرایا جائے ) ” جو ہر مادی عطیہ سے بہتر اور ہر مدد سے مناسب تر ہیں اور اس نے اپنے کاموں سے جو صفات ثابت کی ہیں۔یعنی اس کی قوت ، اس کی طاقت، اس کا غلبہ اور اس کی سخاوت کا تصور کیا جائے۔پس اس بات کو یا درکھو اور لا پرواہ مت بنو اور جان لو کہ ربوبیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے اور رحمانیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے اور رحیمیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے اور جزا سزا کے دن کامل حکومت اللہ کے لئے ہے۔پس اے مخاطب ! اپنے پرورش کنندہ کی اطاعت سے انکار نہ کر اور موحد مسلمانوں میں سے بن جا۔پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ پہلی صفت کے زوال کے بعد کسی نئی صفت کو اختیار کرنے اور اپنی شان کے تبدیل ہونے اور کسی عیب کے لاحق ہونے اور نقص کے بعد خوبی کے پانے سے پاک ہے۔“ (یعنی کوئی نقص اُس میں پیدا ہو ہی نہیں سکتا اس لئے نئی