خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد دہم 85 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012ء کامل تعریف کرنے والا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی حمد ہی ہے جو تمام عزتوں کا منبع ہے اور ایک مومن کا کام ہے کہ اس حمد کا ادراک حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائے۔حمد کے لفظ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو حد سے کیوں شروع کیا ؟ اس میں کیا حکمت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو حمد سے شروع کیا ہے، نہ کہ شکر اور مدح سے کیونکہ لفظ حمد ان دونوں الفاظ کے مفہوم پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ ان کا قائمقام ہوتا ہے مگر اس میں اصلاح، آرائش اور زیبائش کا مفہوم ان سے زیادہ ہے۔“ ( خوبصورتی بھی ہے، حسن بھی ہے، اصلاح بھی ہے۔چونکہ کفار بلا وجہ اپنے بتوں کی حمد کیا کرتے تھے اور وہ ان کی مدح کے لئے حمد کے لفظ کو اختیار کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ معبود تمام عطایا اور انعامات کے سرچشمہ ہیں اور سخیوں میں سے ہیں۔اسی طرح اُن کے مردوں کی ماتم کرنے والیوں کی طرف سے مفاخر شماری کے وقت بلکہ میدانوں میں بھی ( مطلب بڑے فخر سے اُن کے ذکر کئے جاتے تھے ) اور ضیافتوں کے موقع پر بھی اسی طرح حمد کی جاتی تھی جس طرح اس رازق متولی اور ضامن اللہ تعالیٰ کی حمد کی جانی چاہئے۔اس لئے یہ ( الْحَمدُ لِله) ایسے لوگوں اور دوسرے تمام مشرکوں کی تردید ہے اور فراست سے کام لینے والوں کے لئے (اس میں ) نصیحت ہے۔اور ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ بت پرستوں یہودیوں، عیسائیوں اور دوسرے تمام مشرکوں کوسر زنش کرتا ہے۔گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اے مشرکو ! تم اپنے شرکاء کی کیوں حمد کرتے ہو اور اپنے بزرگوں کی تعریف بڑھا چڑھا کر کیوں کرتے ہو؟ کیا وہ تمہارے رب ہیں جنہوں نے تمہاری اور تمہاری اولاد کی پرورش کی ہے یا وہ ایسے رحم کرنے والے ہیں جو تم پر ترس کھاتے ہیں اور تمہاری مصیبتوں کو دور کرتے ہیں اور تمہارے دکھوں اور تکلیفوں کی روک تھام کرتے ہیں۔یا جو بھلائی تمہیں مل چکی ہے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔یا مصائب کی میل کچیل تمہارے وجود سے دھوتے ہیں اور تمہاری بیماری کا علاج کرتے ہیں؟ کیا وہ جزا سزا کے دن کے مالک ہیں؟ نہیں۔بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو خوشیوں کی تکمیل کرنے ، ہدایت کے اسباب مہیا کرنے ، دعائیں قبول کرنے اور دشمنوں سے نجات دینے کے ذریعہ تم پر رحم فرماتا اور تمہاری پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کو ضرور اجر عطا کرے گا۔“ (اردو تر جمه عربی عبارت از کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 107 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 77،76) پھر اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ ہمارا خدا کامل خدا ہے اور صفات کا ملہ اور تمام قسم کی