خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 803
خطبات مسرور جلد دہم 803 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجر بیان کرتے ہیں ( بیعت 1891ء کی ہے ) کہ رہتاس میں ہم اپنے بھائی منشی گلاب دین صاحب سے کتابیں سنا کرتے تھے ، مرثیہ اور دیگر نظمیں وغیرہ ، کیونکہ ہم غالی شیعہ تھے۔ماتم وغیرہ کیا کرتے تھے۔مراۃ العاشقین وغیرہ پڑھتے تھے۔بعض وقت فقراء : امام غزالی اور شیخ عطار وغیرہ کی باتیں سنایا کرتے تھے۔ایک دن کہنے لگے کہ اگر سراج السالکین مصنفہ امام غزالی جیسی تحریر لکھنے والا آج پیدا ہو جائے تو چاہے ہمیں سو، دوسو، چار سو میل پیدل جانا پڑے ہم ضرور جائیں گے۔اتفاقاً یہاں سے ( یعنی قادیان سے ) توضیح مرام، فتح اسلام دونوں رسالے وہاں پہنچ گئے۔یہ اشتہار بابا قطب الدین آف مالیر کوٹلہ فقیر لائے تھے۔اُن کو ایک خواب آیا تھا کہ میں سیالکوٹ گیا ہوں اور وہاں حضرت صاحب سے جا کر ملا ہوں۔چنانچہ اس نے واقعی جانے کا عزم کر لیا اور جس طرح خواب میں لباس اور حضور کا نکلنا دیکھا تھا، ویسا ہی پایا اور یہ کتا ہیں ساتھ لایا۔آخر منشی گلاب دین صاحب سے ملا اور کتابیں دے کر کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کے پاس جانا ہے۔آپ ایک دو روز میں یہ کتابیں دیکھ لیں۔( یعنی ادھار کتا ہیں اُن کو دے گئے کہ میں نے آگے سفر پر جانا ہے، دو تین دن ہیں، آپ یہ کتا ہیں دیکھ لیں۔) وہ رسالے منشی صاحب نے ہمیں پڑھ کر سنائے اور کہا کہ یہ تحریر شیخ عطار اور امام غزالی وغیرہ سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔(پہلے ان کی کتابیں پڑھا کرتے تھے ناں، جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھیں تو کہتے ہیں یہ تحریر تو اُن سے بہت اعلیٰ ہے ) ان دنوں بیعت کا اشتہار حضور نے دیا تھا۔خاکسار (یعنی یہ روایت کرنے والے ) اور منشی گلاب الدین صاحب اور میاں اللہ دتہ صاحب تینوں نے اُسی وقت بیعت کا خط لکھ دیا۔یہ غالباً 1891ء کی بات ہے۔جب وہ رسالے سنا چکے تو میں نے کہا کہ تمہارا وعدہ تھا کہ اگر اس وقت اس قسم کا آدمی ملے تو چاہے چار سو میل جانا پڑے ہم جائیں گے۔اب بیعت ہم کر چکے ہیں اور جلسہ سالانہ 1892ء کا بالکل قریب ہے۔اشتہار شائع ہو چکا ہے۔چلو زیارت بھی کر آئیں اور جلسہ بھی دیکھ آئیں۔چنانچہ ہم تینوں نے عزم کر لیا۔میں ایک جگہ پانچ چھ میل کے فاصلے پر دکان کیا کرتا تھا۔فیصلہ یہ ہوا کہ پرسوں چلیں گے۔لیکن وہ لوگ میرے آنے سے پہلے چل پڑے (وہاں” کریالہ ایک سٹیشن تھا وہ کر یا لہ والے سٹیشن پر چلے گئے۔روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ میں جہلم سے سوار ہو گیا۔کریالہ میں ہم تینوں اکٹھے ہو گئے۔اگلے دن لاہور پہنچے کسی نانبائی کی دکان سے روٹی کھائی۔لوگ کہنے لگے کہ گاڑی چھ بجے شام کو چلے گی۔چنانچہ ہم نے عجائب گھر ، چڑیا گھر وغیرہ کی سیر کی۔شام کوسٹیشن پر آ کر بٹالہ کا ٹکٹ حاصل کیا۔رات گیارہ بجے بٹالہ ایک سرائے میں پہنچے۔چار پائی بھی کوئی نہ تھی اور وہاں گند پڑا ہوا تھا۔وہاں رہنے کو دل نہیں چاہا۔شہر میں ایک مسجد میں پہنچے۔مسجد میں رات کو آرام کیا۔خدا کی قدرت کہ