خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 74
خطبات مسرور جلد دہم 74 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012 ء اُن کے حقوق کبھی پامال نہیں ہو سکتے۔وہ نگے نہیں رہیں گے۔ٹی وی پر مختلف افریقن ممالک کی تصویر میں دکھائی جاتی ہیں۔بچے فاقوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔بہت سارے خوراک کی کمی کی وجہ سے قریب المرگ ہیں یا بڑھوتری اُن کی صحیح نہیں ہے۔مالنور شڈ (Malnourished) ہیں۔مائیں بھوکی ہیں۔چھوٹے بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتیں۔پس اگر وسائل پر قبضہ کرنے کی سوچ کے بجائے حقوق کی ادائیگی پر توجہ دی جائے محسنین بنتے ہوئے دوسروں کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے۔خود غریبوں کو اُن کے پاؤں پر کھڑا کیا جائے تو یہ مسائل جو دنیا میں پیدا ہوئے ہوئے ہیں خود بخود ختم ہو جائیں گے۔اگر مسلمان حکومتیں بھی اپنے ملکوں میں اس بات کا خیال رکھنے والی ہوں اور لیڈر اپنے بنک بیلنس بنانے کی بجائے عوام کا خیال رکھنے والے ہوں محسنین بنے کی کوشش کرنے والے ہوں ،تقویٰ پر چلنے والے ہوں تو اس خوبصورت تعلیم کے بعد کبھی ہمارے مسلمان ملکوں میں بے چینی اور غربت اور افلاس کی یہ حالت نہیں ہو سکتی۔لیکن بدقسمتی سے سب سے زیادہ مسلمان ملکوں میں یہ حال ہے اور پھر غیر بھی اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔تو جب بھی میں نے لوگوں کے سامنے یہ بیان کیا کہ اگر یہ صورتحال ہو، اور تم لوگ بھی اگر انصاف سے کام لیتے ہوئے کام کرو تو یہ مسائل جو دنیا میں پیدا ہوئے ہوئے ہیں یہ خود بخود ختم ہو جائیں گے۔اس پر اکثر یہی کہتے ہیں کہ اصل یہی چیز ہے اور یہ اسلام کی بڑی خوبصورت تعلیم ہے لیکن جب اپنی مجلسوں میں واپس جاتے ہیں تو پھر ذاتی مفادات آڑے آجاتے ہیں۔یعنی ملکی اور قومی مفادات کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ملکی مفادات ضرور ہونے چاہئیں اگر وہ حق اور انصاف پر قائم رہتے ہوئے ہوں۔دوسروں کا حق مار کے نہ ہوں تو پھر ضرور اُن پر عمل ہونا چاہئے۔اور ظاہر ہے کہ پہلے خود انسان اپنے آپ کو سنبھالتا ہے۔اسی طرح ملکوں کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو سنبھالیں۔لیکن دوسروں کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے ملکی مفادات کی آڑ کے بہانے بنانا یہ چیز غلط ہے۔دوسروں کے مفادات پامال کر کے اپنے نام نہاد حق کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا یہ غلط ہے۔یہ سب چیزیں خود غرضی دکھانے والی ہیں۔یا ایسی باتیں ہیں جوصرف فسادات کو فروغ دیتی ہیں۔بہر حال ہر احمدی کا کام ہے کہ وہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اور محسنین میں شمار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قرب کے نظارے دیکھنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ کی معیت میں آنے کی کوشش کرے اور یہی ایک صورت ہے جس سے ہم اپنی اصلاح کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں اور معاشرے کو بھی اپنے محدود دائرے میں فساد سے بچا سکتے ہیں۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ صبغۃ اللہ بنتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے