خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 2

خطبات مسرور جلد دہم 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء پس بچے ایمان، سچی نیکی اور قربانی کے اعلیٰ معیار کا اُس وقت پتہ چلتا ہے جب اُس چیز کو قربان کیا جائے جوا سے سب سے زیادہ پسندیدہ ہو۔ایمان کی مضبوطی اور سلامتی کے لئے بھی ہر قسم کی قربانی کے لئے مومن تیار رہتا ہے اور ایک حقیقی مومن کو (تیار) رہنا چاہئے۔نیکیوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لئے بھی ہر وقت ایک حقیقی مومن بے چین رہتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک صحابی ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت سالی اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں اپنا سب سے پسندیدہ مال جو بیرحاء کے نام سے جانا جاتا تھا، وہ اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔آنحضرت سلی یہ تم نے اس پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔پھر اُس کو فر ما یا کہ اس کو تم نے کس طرح خرچ کرنا ہے۔(بخاری کتاب التفسير باب لن تنالوا البر حتى۔۔۔حدیث نمبر 4554) بہر حال صحابہ ہر وقت اس تڑپ میں رہتے تھے کہ کب کوئی نیکی کا حکم ملے اور ہم اسے بجالانے کے لئے ایمان، اخلاص ، وفا اور قربانی کا اظہار کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو انتہائی قابل رشک فرمایا ہے۔اور یہ معیار حاصل کرنے والے ہمیں صحابہ رضوان اللہ علیہم میں بے شمار نظر آتے ہیں جو سر ابھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے اور اعلانیہ بھی۔چھپ کر بھی کرتے تھے اور ظاہری طور پر بھی کرتے تھے تا کہ وہ معیار حاصل کریں جو اللہ تعالیٰ ایک مومن سے چاہتا ہے۔اُن کی قربانیوں کی نیت بھی خدا تعالیٰ جانتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کو بے انتہا نوازا۔معمولی کام کرنے والوں کو ایک وقت آیا کہ کروڑوں کا مالک بنا دیا۔اور یہ مالی فراوانی اُن کے ایمان اور یقین کو مزید جلا بخشتی گئی۔وہ آنے والے مال کو اور جائیداد کو بے دریغ ، بغیر کسی خوف و خطر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے چلے گئے۔اُن کو اس بات کا عرفان اور ادراک حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ بے انتہا نواز تا ہے۔سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کا اُدھار نہیں رکھتا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے اُن میں جو روحانی انقلاب برپا کیا تھا اُس وجہ سے وہ اس فکر میں ہوتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔یہی اُن کا مقصود تھا جس کے لئے وہ سر توڑ کوشش کرتے تھے۔صحابہ کی زندگیاں اس بات کی شاہد ہیں کہ انہوں نے اس مقصود کو پا بھی لیا جس کے لئے وہ کوشش کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خوشنودی کی سند حاصل کی۔