خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد دہم 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان صحابہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : " کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو اُن کو حاصل ہوا۔دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لیے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ، ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضامندی کا نشان ہے، کیا یونہی آسانی سے مل گیا ؟ فرمایا بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے، حاصل نہیں ہوسکتی۔جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔خدا ٹھگا نہیں جاسکتا۔مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لیے تکلیف کی پروا نہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ( ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر 47 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لئے، دنیا کو خدا تعالیٰ کے قریب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے۔آپ علیہ السلام صحابہ کی مثال دے کر جب ہمیں کچھ بیان فرماتے ہیں تو اس لئے کہ یہ پاک نمو نے ہمارے لئے اسوہ ہیں۔ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو۔اور اگر کوشش کرو گے تو حقیقی نیکیاں سرانجام دینے والے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکو گے۔اور پھر جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی براہ راست تربیت سے ایسے ہزاروں وجود دنیا کو دکھائے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اس ایمان کی حرارت اور قربانیوں کی وجہ سے جماعت ہر دن ایک نئی شان سے ترقی کی منازل طے کرتی چلی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی اُن لوگوں نے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پائی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو خوب سمجھا کہ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔پس یہ امر ذہن نشین کر لوکس یکی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ نص صریح ہے: لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا هِمَا تُحِبُّونَ (آل عمران: 93) جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے، اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر 47 ایڈیشن 2003 مطبوعہد ربوہ ) صحابہ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ تھے وہ اس بات کا ادراک حاصل کرنے کے بعد قربانیوں کے لئے بے چین رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اعلیٰ معیار کی