خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 791
خطبات مسرور جلد دہم 791 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012ء جامعہ ہے وہاں کے میئر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ نے جو تقریر کی وہ کوئی لکھی ہوئی تقریر نہ تھی بلکہ اُن کے دلی خیالات تھے۔اُن کا طلباء کو یہ کہنا کہ وہ تعلیم پر خود بھی عمل کریں اور لوگوں کے سامنے عملی نمونہ رکھیں بہت ضروری اور مثبت بات ہے۔ایک مذہبی تنظیم کے سر براہ ہونے کے باوجود بہت پریکٹیکل انسان ہیں۔یہ باوجود سے پتہ نہیں اُن کی کیا مراد ہے؟ اُن کے خیال میں شاید مذہبی رہنما پریکٹیکل نہیں ہوتے یا عملی طور پر کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔وولف والتھر (Wolf Walther ) صاحب جرمن اسلام کانفرنس کے سیکرٹری ہیں۔وہ بھی وہاں جامعہ کے افتتاح پر آئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ خلیفہ کی ہدایات بہت اہم اور ضروری تھیں۔اُن کی طلباء کو ایک ہدایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ طلباء عمومی آبادی سے مختلف نظر آنے والے اور الگ لباس میں ہوں گے ، اس لئے بہت ضروری ہے کہ وہ دوستانہ رویہ رکھیں اور کھلے دل سے ملنے والے ہوں۔اس سے خوف کم کرنے اور تعصبات سے بچنے کا موقع ملتا ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ بولنے اور معلومات کے تبادلے سے ہی ایسا ممکن ہے۔اس لئے خلیفہ کی اس بارے میں ہدایات بہت اہم ہیں۔ایک جرنلسٹ ہاناک (Hanack) کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں تقریب بہت باوقار تھی اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔آپ کے عالمی سربراہ کی تقریر میرے نزدیک بہت پر مغز اور مناسب تھی۔اُن کے زندگی بخش الفا ظ صرف بنیادی اخلاقیات تک محدود نہیں تھے۔مجھ پر گہرا اثر چھوڑ گئے کیونکہ انہوں نے ٹھوس طریق پر طلباء کے مقامی آبادی کے ساتھ سلوک کا ذکر کیا۔جامعہ احمدیہ کے افتتاح کو بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کافی کوریج ملی ہے۔دس سے زائد خبریں آ چکی ہیں جن میں صوبائی ٹی وی، ریڈیو وغیرہ شامل ہیں۔جامعہ کی تصویر بھی آئی ہے۔اخبارات نے لکھا کہ مرزا مسرور احمد نے طلباء سے خطاب کیا۔انہوں نے بار بار یہ کہا کہ اسلام کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔انہوں نے ان نو جوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے آپ کو پرکھیں۔تعلیمات کو اپنے او پر لاگو کریں اور بنی نوع انسان سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔احمد یہ جماعت کی اہم شرط یہ ہے کہ معاشرے میں ہم آہنگی اور امن پھیلایا جائے۔ایک اخبار نے لکھا کہ اسلامی جماعت احمدیہ مستقبل میں ریڈشنڈ میں امام تیار کرے گی اور پھر سارا نقشہ کھینچا کہ کیا کیا کچھ وہاں موجود ہے۔ان کے سر براہ مرزا مسرور احمد نے مستقبل کے اماموں کو مخاطب کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ ریڈشنڈ اور بیسن میں لوگوں میں اسلام کا خوف ختم کرنا ہے۔اسلام