خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 790
خطبات مسر در جلد دہم 790 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012 ء این ڈی آرا کیچوال (NDR Aktuell) اس کی چار لاکھ کی سرکولیشن ہے ، لوگ پڑھتے ہیں۔اور اسی طرح مختلف اخباروں نے ہیمبرگ کی مسجد کی اس رینوویشن (Renovation) کے افتتاح کا اور اس ایڈریس کا ذکر کیا۔صوبہ بیسن کی جو پارلیمنٹ ہے، اُس کے اپوزیشن لیڈر نے بھی وہاں پارلیمنٹ میں ملاقات کے لئے بلایا تھا تو وہ کہنے لگا کہ اسلامی دنیا میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں، خاص طور پر عرب ممالک میں ، اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ آجکل ہمارے ہاں اس کی بڑی بحث چل رہی ہے۔ان لوگوں سے مدد بھی وہاں جاتی ہے اور یہی لوگ وہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کے ذمہ دار بھی ہیں۔تو میں نے ان کو یہ کہا کہ جو عرب دنیا کی صورتحال ہے یہ کوئی راتوں رات پیدا نہیں ہو گئی۔عرب دنیا کی یہی لیڈرشپ تھی جو آج سے دس ہیں سال پہلے بھی تھی۔انہی خیالات کے حامل تھے۔اُس وقت بڑی طاقتوں نے اس طرف توجہ نہیں دی کیونکہ اپنی ترجیحات اور مفادات تھے۔اور نہ ہی وہاں کے لوکل عوام کی توجہ پیدا ہوئی کیونکہ ان کو بھی بھڑ کانے والے باہر کے لوگ ہیں۔یہی لیڈرشپ تھی جو پہلے بھی کر پٹ تھی یا اپنے عوام کے ساتھ صحیح سلوک نہیں کر رہی تھی۔لیکن مغربی طاقتوں نے یا ان ایجنسیز نے جو ان ملکوں کو ایڈ (Aid) دیتی تھیں، ان کے ساتھ رابطہ رکھا۔اصل چیز یہ ہے کہ جب تک بڑی طاقتوں نے لیڈرشپ کو اپنے زیر اثر رکھا، لیڈرشپ نے ان کی بات مانی تو اُس وقت تک وہاں کوئی ایسا فساد نہیں تھا، کوئی فکر نہیں تھی۔لیکن جب وہ لیڈرشپ ان کے قابل نہیں رہی تو انہوں نے وہاں ایک انقلاب لانے کی کوشش کی۔میں نے ان کو کہا کہ اگر مغربی حکومتیں چاہتی ہیں کہ ان ممالک میں امن ہو تو وہ پھر وہاں خالص جمہوریت لے کے آئیں۔کیونکہ آپ لوگ جمہوریت کا ہی زیادہ شور مچاتے ہیں ناں کہ جمہوریت ہونی چاہئے۔نہ یہ کہ کسی خاص شخص کو پسند کر کے ایک لمبا عرصہ اُس کی سپورٹ کرتے رہیں اور پھر جب وہ حد سے بڑھ جائے ، ڈکٹیٹر بن جائے تو پھر اُس کے خلاف کارروائی کی جائے۔تو یہ ڈکٹیٹر بنانے والے بھی آپ لوگ ہی ہیں۔اور پھر یہ بھی ہے کہ ترقی کے جس معیار تک وہ ملک پہنچ چکا ہوتا ہے، جب پسند نہیں رہتا تو پھر اُس کا اتنا برا حال کرتے ہیں کہ بالکل مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔اس لئے اب یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جن ملکوں میں فساد ہیں وہاں حقیقی طور پر اُن کی مدد بھی کی جائے اور جمہوریت اگر آپ نے قائم کرنی ہے تو کریں۔خیر اور بھی باتیں ہوتی رہیں، بہر حال ان کو یہ کہنے کا ایک موقع ملا۔وہاں جامعہ احمدیہ کا افتتاح بھی ہوا۔ورنر آرمنڈ (Werner Amend) ریڈشنڈ ، جس شہر میں