خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 780
خطبات مسرور جلد دہم 780 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012 ء اسلام سے متعلق شکوک وشبہات دور ہوئے۔الحمد للہ۔اس کے بعد میں جرمنی چلا گیا تھا اور جرمنی میں بھی اسی طرح دو بڑے پروگرام تھے۔ایک تو ہیمبرگ میں مسجد کو انہوں نے ٹھیک کیا ہے۔جو نئی جگہ خریدی تھی اس میں پہلے مسجد تو اندر بنائی ہوئی تھی۔بلڈنگ کو کنورٹ (Convert) کیا تھا لیکن مینارے وغیرہ نہیں تھے۔اب مینار وغیرہ بنائے تھے تو اس تعمیر کے حوالے سے بھی ایک پروگرام ہوا جو اصل میں تو مہمانوں کو لانے کا ایک بہانہ تھا۔بہر حال اس میں بھی بڑا اچھا طبقہ شامل ہوا اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کا یہ سب لوگ بڑا نیک اثر لے کر گئے۔اسی طرح وہاں جامعہ احمدیہ جرمنی کی نئی عمارت بھی بنی ہے۔یہ کیونکہ جامعہ کی باقاعدہ عمارت بنائی گئی ہے جس میں بڑے سائز کے با قاعدہ کلاس روم، اسمبلی ہال ، ہوسٹل، اُس میں کچن، ڈائننگ وغیرہ ، سارا کچھ ہے۔بڑا وسیع انتظام ہے اور یہ بڑی خوبصورت عمارت بنائی گئی ہے۔بہر حال یہاں بھی اچھے پڑھے لکھے لوگ، پریس، سیاستدان وغیرہ آئے ہوئے تھے۔یہاں بھی اُن لوگوں کے سامنے تو نہیں بلکہ طلباء کو جو نصیحت کر رہا تھا، اُسی میں اسلام کی تعلیم آگئی جس کو اُن لوگوں نے سمجھا اور پسند کیا۔پھر دو مساجد کا وہاں افتتاح بھی ہوا۔یہاں بھی شہر کے لوکل میئر اور پڑھے لکھے لوگ آئے ہوئے تھے اور محبت اور بھائی چارے کا اظہار کرتے رہے۔ایک جگہ جب افتتاح ہوا تو وہاں ہمسایوں میں سے ایک جوڑا آیا ہوا تھا۔وہ تھوڑی دیر کے بعد میرے پاس آئے اور یہ کہا کہ ہم آپ کو تحفہ دینا چاہتے ہیں۔تحفہ دیا اور ساتھ ہی کہا کہ ہم اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور مسجد کی مبارکباد دی۔اُس وقت فنکشن میں میئر صاحب وہاں موجود تھے اور میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔وہ کہنے لگے کہ اس علاقے میں جب مسجد بن رہی تھی تو سب سے زیادہ مخالفت کرنے والا یہی گھر تھا جو یہ کہتے تھے کہ یہاں مسجد بن گئی تو فتنہ و فساد کا گڑھ بن جائے گا کیونکہ مسلمان ایسے ہی ہیں۔لیکن بہر حال کونسل نے بھی، باقی ہمسایوں نے بھی ان کی اس فکر کورڈ کر دیا اور مسجد بن گئی۔اس عرصہ میں احمدیوں نے بھی ان سے رابطے کئے اور ان کو اسلام کی ، احمدیت کی صحیح تعلیم کے بارے میں بتایا تو ان کے رویوں میں تبدیلی آنی شروع ہوئی اور افتتاح کے موقع پر جب میں نے احمدیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی کہ مسجد بننے کے بعد احمدی کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور اسلام کی خوبصورت تعلیم بیان کی تو ان میں مزید ایک اور تبدیلی پیدا ہوئی۔ان لوگوں میں بڑا ادب اور احترام تھا۔جو مخالف تھے اُن کے دل پگھلتے دیکھے۔