خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 779 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 779

خطبات مسر در جلد دہم 779 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012ء یا یورپ اور امریکہ کے ایوانوں میں اسلام کی خوبصورت تعلیم کا لوہا منوانے سے تعلق رکھتے ہوں تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ کی تائیدات نظر آتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی یہ بارش ہمیں کس قدر شکر گزاری کے مضمون کو سمجھنے والا اور شکر ادا کرنے والا بناتی ہے اور بنانی چاہئے دوسرے اس کا اندازہ لگا ہی نہیں سکتے۔احمدی ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو کہ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم : 8) کہ اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں اپنی دی ہوئی نعمتوں کو زیادہ کروں گا، کو سب سے زیادہ سمجھتے ہیں۔یہ کام جو ہم کر رہے ہیں ، اس کا مقصد اپنی پہچان کروانا نہیں، کوئی ذاتی بڑائی نہیں یا اس کا اظہار نہیں بلکہ اس مشن کو آگے لے جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہی ہمارا کام ہے تا کہ دنیا کے سامنے یہ تعلیم پیش کر کے آپ کے آخری رسول ہونے کا ادراک دنیا میں پیدا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کروایا جائے۔پس جو کام خدا تعالیٰ کے لئے ہوں اور ذاتی بڑائی اور نام و نمود اُن میں نہ ہوں اور پھر اُس کے نیک نتائج پر خدا تعالیٰ کی شکر گزاری بھی ہو تو پھر یقینا اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت پہلے سے بڑھ کر ہوتی ہے۔پس اس مضمون کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔گزشتہ دنوں میں یورپ کے سفر پر تھا جہاں مختلف پروگرام تھے جن میں سب سے پہلے تو یورپین پارلیمنٹ کا ایک پروگرام تھا جو اُن کے آڈیٹوریم میں ہوا۔جس میں یورپین پارلیمنٹیرین ار مختلف ممالک کے ملکی پارلیمنٹیرین یعنی گل ملا کے سارے مہمان تقریباً دوسو سے زائد تھے یا دوسرے سیاستدان، وکلاء اور پڑھے لکھے طبقے پر سارے مشتمل تھے۔اُن کے ساتھ بھی وہاں پروگرام ہوا تھا۔اسی طرح کئی نیوز ایجنسیوں کے نمائندوں کے سامنے بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم کے حوالے سے مجھے کچھ کہنے کا موقع ملا۔پریس کا نفرنس کی وجہ سے دنیا میں کافی کو ریج ہوئی۔اس تقریب کو آرگنا ئز کروانے کے لئے یوکے کی جماعت نے بھی اچھا کردار ادا کیا۔گو اصلی آرگنائز تو ہمارے یورپین پارلیمنٹیرین دوست ہی تھے۔بہر حال یہ پروگرام بہت اچھا رہا۔یو کے کی جماعت کو شاید اس کی فکر بھی تھی اس لئے جماعتوں میں یہ لوگ دعا کا اعلان بھی کرواتے رہے اور احمدیوں کی دعاؤں کی قبولیت کو ہمیشہ کی طرح ہم نے اس پروگرام میں دیکھا بھی اور محسوس بھی کیا۔میرے خیال میں تو جو باتیں میں نے کیں عمومی طور پر ہم اُن کو عام سمجھتے ہیں لیکن اگر سوچا جائے تو اسلام کے حوالے سے کوئی بات بھی عام نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے جس دین کو کامل کیا ہے اُس کی ہر بات ہی اہم ہے، اسی لئے شاملین پر ان باتوں کا بڑا اثر بھی ہوا۔اس کا انہوں نے کھل کر اظہار بھی کیا۔