خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 777
خطبات مسرور جلد دہم 777 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء ان کے گھر میں نماز سینٹر تھا۔اس کو ہمیشہ فعال رکھنے کی کوشش کرتے۔ان کے گھر میں نمازیں تو ہوتی تھیں پھر با قاعدہ وقف نو اور اطفال کی کلاسیں بھی ہوتی تھیں۔بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے۔اور بلکہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اب کوئٹہ کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ یہاں سے ہجرت کی جائے اور معلم صاحب سے مشورہ کر رہے تھے اور مجھے انہوں نے خط لکھنا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہ تھی کہ اس سے پہلے ہی ان کو اللہ تعالیٰ نے شہادت کا درجہ عطا فرما دیا۔ان کے والد کے یہ دو ہی بیٹے تھے اور دونوں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو گئے۔ان کے والد صاحب نے آسمان کی طرف منہ کر کے صرف اتنا کہا کہ اے خدا! دونوں کو لے گیا، اب ان ظالموں سے خود بدلہ لے لے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔یہ شہادت تو ان کے مقدر میں لکھی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کا حافظ و ناصر ہو اور اپنی پناہ میں لے لے۔بیوی بچوں کو بھی اور والدین کو بھی صبر ، ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔دشمنوں کو بھی اب کیفر کردار تک پہنچائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 4 تا 10 جنوری 2013 ، جلد 20 شماره 1 صفحه 5 تا 9)