خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 773 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 773

خطبات مسر در جلد دہم 773 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012 ء فرماتا ہے يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (البقرة:4) کہ غیب پر ایمان لاؤ۔فرمایا کہ نمازوں کو قائم کرو۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔تمام گزشتہ انبیاء اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان رکھو۔اس زمانے کے امام اور مسیح موعود پر بھی ایمان لاؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقرة: 5)۔اور مؤمن آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یعنی بعد میں آنے والی موعود باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور آخری زمانے کی سب سے بڑی موعود بات تو مسیح موعود کا آنا ہی ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آیت کے اس حصہ میں وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقرة:5) میں میرے پر ایمان لانے کو اللہ تعالیٰ نے لازمی قرار دیا ہے۔(ماخوذ از ریویو آف ریلیجنز ماه مارچ و ا پریل 1915 صفحہ 164 جلد 14 نمبر 4,3) پھر ایمان کی مضبوطی کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کو مضبوط کرو۔ایک حقیقی مومن کی نشانی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔یہ بات بھی ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنی چاہئے۔ہر محبت سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی محبت ہو۔اگر یہ محبت نہیں تو ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان ، اُس کے فرشتوں پر ایمان، اُس کی کتابوں پر ایمان، اُس کے رسولوں پر ایمان، پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ یہ سب باتیں ایمان کے لئے ضروری ہیں۔اور پھر ان کے معیار بھی بڑھتے چلے جانے چاہئیں۔پھر ایمان کا معیار اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جب ایمان لانے والوں کے سامنے خدا تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے تو اُن کے دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت سے ڈر جاتے ہیں۔پھر فرمایا کہ مومن وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔اب جہاد بھی کئی قسم کے ہیں۔ایک تو جہا د تلوار کا جہاد ہے وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے سے بند ہو گیا۔اب نہ کوئی مذہبی جنگیں ہیں نہ اُس قسم کا جہاد ہے۔اور وہ جہاد جو ایک احمدی کا فرض ہے اور ایمان کی مضبوطی کے لئے اور شہادت کا رتبہ پانے کے لئے ہر جگہ اور ہر ملک میں کرنا چاہئے وہ جہاد ہے تبلیغ کا جہاد۔پس جہاں اپنے نفسوں کے اصلاح کا جہاد کرنا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا جہاد کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے اور یہ جہاد ہر ملک میں اور ہر جگہ رہ کر کیا جا سکتا ہے اور یہاں آنے والے ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ اس جہاد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہجرت کرنا یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔پھر ایمان کی یہ نشانی ہے کہ جب اُن ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرف بلایا جائے