خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 772
خطبات مسرور جلد دہم 772 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے ہاں صدیق اور شہید ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہیں وہ قیامت کے روز عیسی بن مریم کے ساتھ ایک ہی درجے کی جنت میں ہوں گے۔(الدر المنثور في التفسير بالماثور تفسير سورة الحدید آیت: 19 جلد 8 صفحه 59 دار احیاء التراث العربی بیروت ایڈیشن 2001) پس آپ لوگ جو یہاں آئے ہیں جب دین کی خاطر ہجرت کر کے آئے ہیں تو پھر ہمیشہ سچائی کو قائم کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور روزِ جزا پر ایمان اور یقین رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ جزا سزا یقینی امر ہے (ماخوذ از براہین احمدیہ جلد اول صفحہ 460 حاشیہ نمبر 11) اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔آپ نے اس کی مزید وضاحت فرمائی ہے۔پس جب یقینی امر ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق زندگی گزار کر بہتر جزا کیوں نہ حاصل کی جائے ؟ کیوں دنیاوی خواہشات کے لئے انسان اللہ تعالیٰ کی سزا کا مورد بنے۔بہر حال یہ ایک اور مضمون ہے۔لیکن خلاصہ یہ کہ روز جزا کو سامنے رکھنے والا اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور ایمان رکھنے والا بھی ہے اور شہید بھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ: ” شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے۔(تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحه 516) پھر آپ فرماتے ہیں کہ جس قدر ایمان قوی ہوتا ہے، اُسی قدر اعمال میں بھی قوت آتی ہے۔یہاں تک کہ اگر یہ قوت ایمانی پورے طور پر نشو نما پا جاوے تو پھر ایسا مومن شہید کے مقام پر ہوتا ہے۔کیونکہ کوئی امر اُس کے سد راہ نہیں ہو سکتا۔( کوئی روک نہیں بن رہا ہوتا )۔وہ اپنی عزیز جان تک دینے میں بھی ( ملفوظات جلد اول صفحہ 226 مطبوعہ ربوہ ) تامل اور دریغ نہ کرے گا“۔پس شہید کا رتبہ پا نا صرف جان دینا ہی نہیں ہے بلکہ ایمان کے اعلیٰ معیار کا حصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔اپنے ہر عمل اور فعل کے کرتے وقت یہ یقین رکھنا ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔مختصراً یہ بھی بتادوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے ایمان کے کیا معیار رکھے ہیں۔اللہ تعالیٰ