خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 769 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 769

خطبات مسرور جلد دهم 769 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012 ء ہیں وہ کامل طور پر اور اپنے اصلی رنگ میں اس سے صادر ہوتے ہیں اور بلا تکلف صادر ہوتے ہیں۔کوئی خوف اور رجاء ان اعمالِ صالحہ کے صدور کا باعث نہیں ہوتا“۔( کسی وجہ سے نہیں ہورہے ہوتے بلکہ وہ اُس کی فطرت اور طبیعت کا جزو ہو جاتے ہیں۔تکلف اُس کی طبیعت میں نہیں رہتا۔جیسے ایک سائل کسی شخص کے پاس آوے“۔( دنیا داری میں ہم دیکھتے ہیں۔آپ نے مثال دی کہ کسی شخص کے پاس کوئی سوال کرنے والا آوے) تو خواہ اُس کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو، تو اُسے دینا ہی پڑے گا“۔(اگر وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہے، اگر یہ اظہار کر رہا ہے کہ میں بڑا پیسے والا ہوں یا نہیں بھی ہے تو پھر بھی شرم و شرمی کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے۔فرمایا کہ ''اگر خدا کے خوف سے نہیں تو خلقت کے لحاظ سے ہی سہی۔( لوگ کیا کہیں گے کہ صاحب حیثیت بھی ہے، مگر جو مانگ رہا ہے اُس کو دے بھی نہیں رہا۔''مگر شہید میں اس قسم کا تکلف نہیں ہوتا“۔( شہید میں یہ تکلف نہیں ہے اور یہ قوت اور طاقت اُس کی بڑھتی جاتی ہے۔اور جوں جوں بڑھتی جاتی ہے اسی قدر اس کی تکلیف کم ہوتی جاتی ہے اور وہ بوجھ کا احساس نہیں کرتا“۔( ہر قسم کی تکلیف خدا تعالیٰ کی خاطر برداشت کرنے کے لئے وہ تیار ہو جاتا ہے اور بلا تکلف تیار ہو جاتا ہے، کسی خوف یا کسی انعام کی وجہ سے تیار نہیں ہوتا۔) فرمایا کہ " مثلاً ہاتھی کے سر پر ایک چیونٹی ہو تو وہ اس کا کیا احساس کرے گا۔“ ایک طرح ایک حقیقی مومن کے لئے ایک تکلیف ہوتی ہے، اُس مومن کے لئے جو شہادت کا درجہ پانے کی خواہش رکھتا ہے۔پس یہاں مزید فرمایا کہ اصل شہادت دل کی کیفیت کا نام ہے اور دل کی کیفیت خدا تعالیٰ پر کامل یقین اور ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔یعنی یہ یقین جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ میرے ہر کام پر خدا تعالیٰ کی نظر ہے اور ہر کام میں نے خدا تعالیٰ کے لئے کرنا ہے۔پھر ایسے مومن سے، ایسے شخص سے اعلیٰ اخلاق اور اچھے اعمال اصل رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔یعنی ان کے کرنے کی وجہ دنیا دکھاوا نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا یہ حصول بھی صرف کوشش سے نہیں ہوتا بلکہ ایک حقیقی مومن کی فطرت اور طبیعت کا حصہ بن جاتا ہے۔جب وہ مسلسل اس بارے میں کوشش کرتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ کسی بات کا اُسے خیال ہی نہیں رہتا۔مثلاً اگر جماعت کی خدمت کا موقع مل رہا ہے اور اس کو احسن طریق پر کوئی بجالا رہا ہے ، کام کر رہا ہے تو اس لئے نہیں کہ میری تعریف ہو بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔اس لئے کہ یہ خدمت ایسی گھٹی میں پڑگئی ہے کہ اس کے بغیر چین اور سکون نہیں ہے۔بعض لوگ جب اُن سے خدمت نہیں لی جاتی تو بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔آپ علیہ السلام نے ( ملفوظات جلد اول صفحہ 253-254۔ایڈیشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ )